Google+ Badge

Wednesday, January 9, 2013

Raat Bhar Ka Hai Mehmaan Andhera,















Raat Bhar Ka Hai Mehmaan Andhera,
Kis Ke Rokay Ruka Hai Sawera,

Koi Mil Ke Tadbeer Sochoon,
Dukh Ke SapnoN Ki Taabeer SochooN,
Jo Tera Hai Wohi Gham Hai Mera,
Kis Ke Rokay Ruka Hai Sawera,
Raat Bhar Ka Hai Mehmaan Andhera,

Raat Jitni Bhi Sangeen Ho Gi,
Subha Utni Hi Rangeen Ho Gi,
Gham Na Kar Dar Hai Paagal Ghanera,
Kis Ke Rokay Ruka Hai Sawera,
Raat Bhar Ka Hai Mehmaan Andhera ...

Contribute : Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

Saari Duniya K Riwaajo'n Say Baghaawat Ki Thi,




















Saari Duniya K Riwaajo'n Say Baghaawat Ki Thi,

Tum Ko Yaad Hai Jab Main Nay Ek Hamaaqat Ki Thi,

Usay Raazdaa'n Samajh Kar Bataaya Tha Haal-e-Dil Apna,

Par Us Shakhs Ne Meri Zaat Say Baghaawat Ki Thi,

Jab Kisi Ki Yaado'n Nay Aankho'n Ko Bhigoya Tha Meri,

Main Nay Ek Naam ki Tasbih Par Tilaawat Ki Thi,

Us Ko Chorr Kar Hanstey Huey Ghar Aa Kar,

Itna Roey Thay K Aankhon Nay Shikaayat ki Thi,

Mere Ujarney Ka Sabab jab Bhi kisi Ney Poocha,

Main Nay Bataaya K Mohabbat Ki Thi !

Contribute: Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

Haq Meri Muhabbat Ka Adaa Kiyon Nahi Kartay,













Haq Meri Muhabbat Ka Adaa Kiyon Nahi Kartay,

Tum Dard To Detey Ho Dawaa Kiyon Nahi Kartay,

Kiyon Bethay Ho Khamoshi Say Raah Mein Mere Aagay,

Na Ro, Mere Marnay Ki Dua Kiyon Nahi Kartay,

Tum Dard To Detey Ho Dawaa Kiyon Nahi Kartay,

Phoolon Ki Tarha Jism Hai, Pathar Ki Tarha Dil,

Mere Saath Haseen Log Wafa Kiyon Nahi Kartay,

Tum Dard To Detey Ho Dawaa Kiyon Nahi Kartay,

Aankhon Ki Adaalat Say Barri To Kar Diya,

Afsos Meri Jaan Mujhe Rehaa Kiyon Nahi Kartay,

Haq Meri Muhabbat Ka Adaa Kiyon Nahi Kartay,

Tum Dard To Detey Ho Dawaa Kiyon Nahi Kartay ...

Contribute : Zahid Shah

Kamal_E_Zabt Ko Khud Bhi To Aazmaon Gi,

Kamal_E_Zabt Ko Khud Bhi To Aazmaon Gi,
Main apne hath sey us ki dulhan sajaon gi,

Sapurd kar k usay chandni k haathon,
Main apne ghar k andheron ko laut Aaon gi,

Badan K Qarb Ko Wo Bhi Samajh Na Paye Ga
Main Dil Mein Ro'oon Gi, Aankho'n Say Muskuraon Gi,

Wo Kiya Gaya K Rafaqat K Saaray Lutf Gaye
Main Kis Say Rooth Sakon Gi, Kissey Manaaon Gi

Wo Aik Rishta-e-Bey_Naam Bhi Nahi Lekin
Main Ab Bhi Us K Ishaaron Pay Sar Jhukaon Gi

Bichhaa diya tha gulaabo'n k sath apna wajood,
Wo so k uthay to khwaabon ki raakh uthaon gi

Ab Us Ka fun Kisi Aur Say Mansoob Hua
Main Kis Ki Nazm Akelay Mein Gungunaon Gi

Jawaaz dhoond raha tha naee muhabbat ka,
Wo keh raha tha k mani us ko bhool jaon gi..

Sama'aton Mein Ghanay Jangalon Ki Saansein Hain
Main Ab Kabhi Teri Awaaz Sun Na Paoon Gi

Poetess: Parveen Shakir
Contribute: Zahid Shah

www.zahid-shah.blogspot.com/

Meri Zindagi K Chiraagh Ka Ye Andaaz Koi Naya Nahi

Meri Zindagi K Chiraagh Ka Ye Andaaz Koi Naya Nahi
Kabhi Roshni, Kabhi Teergi, Na Jala Hua Na Bhuja Hua,

Mujhe Aap Kiun Na Samjh Saky Ye Apny Dil Se Poochhiye
Meri Dastan-E-Hayaat Ka Hai, Har Waraq Waraq Khula Hua,

Muje Hamsafar Bhi Mila Koi, To Meri Tarah He Luta Hua
Kabhi Manzilon Se Hata Hua Kabhi Qafilon Se Luta Hua,

Mujhe Ek Gali Mein Para Hua Kisi Badnaseeb Ka Khat Mila
Kahin Khoon-E-Dil Se Likha Hua Kahin Aansuon Se Mita Hua !

Contribute : Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے

اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
کون ہو گا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے

دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا
وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے

اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے

اتنا حیراں ہو مری بے طلبی کے آگے
واقفس میں کوئی در خود میرا صیاد کرے

سلب بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی
روشنی چھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے

سوچ رکھنا بھی جرائم میں ہے شامل اب تو
وہی معصوم ہے ہر بات پہ جو صاد کرے

جب لہو بول پڑے اس کی گواہی کے خلاف
قاضی شہر کچھ اس بات میں ارشاد کرے

اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود
میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے

ساحر لدھيانوی

تیرے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی

تیرے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

تُو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
انہیں بھی دیکھ جنہیں راستے میں نیند آئی

پکار اے جرسِ کاروانِ صبح طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی

ٹھہر گئے ہیں سرِراہ خاک اڑانے کو
مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی

رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی

یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی

دل افسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی

کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہر رعنائی

پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی

ناصر کاظمی

کس قدر آگ برستی ہے یہاں

کس قدر آگ برستی ہے یہاں
خلق شبنم کو ترستی ہے یہاں

صرف اندیشۂ افعی ہی نہیں
پھول کی شاخ بھی ڈستی ہے یہاں

رُخ کدھر موڑ گیا ہے دریا
اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں

زندہ درگور ہُوئے اہلِ نظر
کس قدر مُردہ پرستی ہے یہاں

زیست وہ جنسِ گراں ہے کہ فراز
موت کے مول بھی سَستی ہے یہاں

احمد فراز

جب عمر کی نقدی ختم ہوئی

جب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال، مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں ا پنی جاں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب ناما دھر کا آیا کیوں
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں، سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں اس مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیاسنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس؟
کیا عمر اپنی کے پانچ برس؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو؟
کیا پاگل ہو؟ سو دائی ہو؟
جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی نرالی ہے
ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ ہے
کیاسود بیاج کا لالچ ہے؟
کسی اور خراج کا لالچ ہے؟
تم سوہنی ہو، من موہنی ہو!
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے؟ کیا ہے؟ کیسی ہے؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو اپنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا 
---
ابن انشاء

شام کے سانولے چہرے کو نکھارا جائے

شام کے سانولے چہرے کو نکھارا جائے
کیوں نہ ساگر سے کوئی چاند ابھارا جائے

راس آیا نہیں تسکین کا ساحل کوئی
پھر مجھے پیاس کے دریا میں اتارا جائے

مہربان تیری نظر، تیری ادائیں قاتل
تجھ کو کس نام سے اے دوست پکارا جائے

مجھ کو ڈر ہے تیرے وعدے پہ بھروسہ کر کے
مفت میں یہ دل ِخوش فہم نہ مارا جائے

جس کے دم سے تیرے دن رات درخشاں تھے قتیل
کیسے اب اس کے بنا وقت گزارا جائے

قتیل شفائی

آنکھیں تھک جاتی ہیں

جو بھی گھر سے جاتا ہے
یہ کہہ کر ہی جاتا ہے
دیکھو، مجھ کو بھول نہ جانا
میں پھر لوٹ کے آؤں گا
دل کو اچھے لگنے والے
لاکھوں تحفے لاؤں گا
نئے نئے لوگوں کی باتیں
آکر تمہیں سناؤں گا

لیکن آنکھیں تھک جاتی ہیں
وہ واپس نہیں آتا ہے
لوگ بہت ہین اور وہ اکیلا
ان میں گم ہوجاتا ہے

منیر نیازی

خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی

خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی

تیرے لئے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہو گا
میرے لئے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی

تیری صدا سے تجھی کو تراشنا ہو گا
ہوا کی چاپ سے شکلیں ابھارنا ہوں گی

ابھی تو تیری طبیعت کو جیتنے کے لئے
دل و نگاہ کی شرطیں بھی ہارنا ہوں گی

تیرے وصال کی خواہش کے تیز رنگوں سے
تیرے فراق کی صبحیں نکھارنا ہوں گی

یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھہ پے وارنا ہوں گی

محسن نقوی

ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا

ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا
ابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا

دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کو
خدا کا بھروسا، سہارا تمہارا

اُن آنکھوں کی آنکھوں سے لوں میں بلائیں
میسر ہے جن کو نظارا تمہارا

محبت کے دعوے ملے خاک میں سب
وہ کہتے ہیں کیا ہے اجارا تمہارا

رُکاوٹ نہ ہوتی تو دل ایک ہوتا
تمہارا ہمارا، ہمارا تمہارا

برائی جو کی تم نے غیروں کی ہم سے
ہوا حال سب آشکارا تمہارا

نکل کر مرے گھر سے یہ جان لو تم
نہ ہوگا کسی گھر گذارا تمہارا

سُنا ہے کسی اور کو چاہتاہے
وہ دُشمن ہمارا، وہ پیارا تمہارا

کریں گے سفارش ہم اے داغ اُن سے
اگر ذکر آیا دوبارا تمہارا ...

داغ دہلوی

گلاب چہرے پہ مسکراہٹ

گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے
سہیلیوں کو لئے اترتی
تو ایسا لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
کچھ اس تیقن سے بات کرتی تھی جیسے دنیا
اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو
وہ اپنے راستے میں دل بچھاتی ہوئی نگاہوں سے ہنس کے کہتی
تمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیں
بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں
میں ساحلوں کی ہوا ہوں نیلے سمندروں کے لئے بنی ہوں
وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی
جب راہ چلتی تو اسے لگتا تھا جیسے دل میں اتر رہی ہو
وہ کل ملی تو اس طرح تھی
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے ، گلاب چہرے پی مسکراہٹ
کے جیسے چاندی پگھل ری ہو
مگر وہ بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھی
کے جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو

شاعر : امجد اسلام امجد

عذابِ وحشتِ جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی

عذابِ وحشتِ جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
نئے سفر کے لئے, راستہ نہ مانگے کوئی

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

تمام شہر مکّرم بس ایک مجرم میں
سو میرے بعد مرا خوں بہا نہ مانگے کوئی

کوئی تو شہرِ تذبذب کے ساکنوں سے کہے
نہ ہو یقین تو پھر معجزہ نہ مانگے کوئی

عذابِ گردِ خزاں بھی نہ ہو بہار بھی آئے
اس احتیاط سے اجرِ وفا نہ مانگے کوئی

افتخار عارف
عذابِ وحشتِ جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
نئے سفر کے لئے, راستہ نہ مانگے کوئی

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

تمام شہر مکّرم بس ایک مجرم میں
سو میرے بعد مرا خوں بہا نہ مانگے کوئی

کوئی تو شہرِ تذبذب کے ساکنوں سے کہے
نہ ہو یقین تو پھر معجزہ نہ مانگے کوئی

عذابِ گردِ خزاں بھی نہ ہو بہار بھی آئے
اس احتیاط سے اجرِ وفا نہ مانگے کوئی

افتخار عارف

ﻏﻢ ﮨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ




ﻏﻢ ﮨﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨُﻮﺍ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ
ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﺎ، ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﺷﮩﺮِ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍٓﺑﺎﺩ
ﺧﻮﺍﺏ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺭﺷﺘﮧﺀِ ﺟﺎﮞ
ﮐﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﮐﯿﺎ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﮑﺎﯾﺖِ ﺩﻝ
ﮨﻢ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﮨﮯ ﻭﮦ ﻏﺮﺑﺖ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﮐﯿﺎ ﻏﻢِ ﮨﺠﺮ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺶِ ﻭﺻﺎﻝ
ﺍﮎ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨُﻮﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﯽ ﮨﮯ
ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﮐﮭﯿﻞ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ

ﮐﺎﺵ! ﺗﻢ ﺳﭻ ﮐﮯ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺟﺎﻧﺎﮞ

جون ایلیا

Tuesday, January 8, 2013

ان سُنے لفظ

ان سُنے لفظ

کسی ریگزار کی دھوپ میں وہ جو قافلے تھے بہار کے
وہ جو اَن کھلے سے گلاب تھے
وہ جو خواب تھے میری آنکھ میں
جو سحاب تھے تیری آنکھ میں
وہ بکھر گئے، کہیں راستوں میں غبار کے !
وہ جو لفظ تھے دمِ واپسیں
میرے ہونٹ پر
تیرے ہونٹ پر
انہیں کوئی بھی نہیں سُن سکا
وہ جو رنگ تھے سرِ شاخِ جاں
تیرے نام کے
میرے نام کے
انہیں کوئی بھی نہیں چُن سکا۔

امجد اسلام امجد

ISHQ-E-LAA-HASIL ...



ISHQ-E-LAA-HASIL ...

Side Table Pe Chaaye (Tea) Ka Cup
Haath Mein ISHQ Pe Likhi Gai Ik Daastaan Ki Kitaab
Aur Ye Dil Bhi Chaahay K Chhat Pe Jaa K
Raat Ki Tanhaai
Chaand Ki Udaasi
Aur Lamhon Ki Be-Bassi Ko
Apne Andar Utaar K
Khud Ko ISHQ-E-LAA-HASIL Mein Qaid Kar Liya Jaye
Aur Aisay Mein Kisi Ki Yaad Na Aaye
Naa-Mumkin ...

Contribute : Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

عشقِ لاحاصل ۔ ۔ ۔

عشقِ لاحاصل ۔ ۔ ۔

سائڈ ٹیبل پہ چائے کا کپ ۔ ۔
ہاتھ میں عشق پہ لکھی گئی ایک داستاںکی کتاب
اور دل یہ بھی چاہے کہ چھت پہ جا کے ۔ ۔
رات کی تنہائی ۔ ۔
چاند کی اداسی ۔ ۔
اور لمحوں کی بےبسی کو ۔ ۔ ۔
اپنے اندر اتار کے ۔ ۔
خود کو عشقِ لاحاصل میں قید کر لیا جائے۔ ۔ ۔
اور ایسے میں کسی کی یاد نہ آئے ۔ ۔ ۔
نا مُمکن ۔ ۔ ۔

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو تو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو

تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم میری زندگی کی عادت ہو

کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو

داستاں ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو

جون ایلیا

غم ہائے روز گار میں الجھا ہوا ہوں میں

غم ہائے روز گار میں الجھا ہوا ہوں میں
اس پر ستم یہ ہے اسے یاد آ رہا ہوں میں

ہاں اُس کے نام میں نے کوئی خط نہیں لکھا
کیا اُس کو یہ لکھوں کہ لہو تھوکتا ہوں میں

کرب غم شعور کا درماں نہیں شراب
یہ زہر ہےاثر ہے اسے پی چکا ہوں میں

اے وحشتو! مجھے اسی وادی میں لے چلو
یہ کون لوگ ہیں، یہ کہاں آ گیا ہوں میں

میں نے غم حیات میں تجھ کو بھلا دیا
حسن وفا شعار، بہت بے وفا ہوں میں

عشق ایک سچ تھا تجھ سے جو بولا نہیںکبھی
عشق اب وہ جھوٹ ہے جو بہت بولتا ہوں میں

دنیا میرے ہجوم کی آشوب گاہ ہے
اور اپنے اس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوں میں

جون ایلیا

تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے

تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے
تم ہمیں زہر پلا دو تو مزا آ جائے

میرِ محفل بنے بیٹھے ہیں بڑے ناز سے ہم
ہمیں محفل سے اُٹھا دو تو مزا آ جائے

تم نے اِحسان کیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
اب وہ اِحسان جتا دو تو مزا آ جائے

آپنے یوسف کی زلیخا کی طرح تم بھی کبھی
کچھ حسینوں سے ملا دو تو مزا آ جائے

چین پڑتا ہی نہیں ہے تمھیں اب میرے بغیر
اب تم مجھ کو گنوا دو تو مزا آ جائے

جون ایلیا

حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں

حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں

اے شجرِ حیاتِ شوق، ایسی خزاں رسیدگی؟
پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں

مُجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سُود ہی کیا، زیاں ہے کیا، اس کا سوال بھی نہیں

مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صُلح و سلام تو کُجا، بحث و جدال بھی نہیں

تُو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں

جون ایلیا

تشنگی نے سراب ہی لکھا

تشنگی نے سراب ہی لکھا
خواب دیکھا تھا، خواب ہی لکھا

ہم نے لکھا نصابِ تِیرہ شبی
اور بصد آب و تاب ہی لکھا

منشیانِ شُہود نے تا حال
ذکرِ غیب و حِجاب ہی لکھا

نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال
شوق کو بے حساب ہی لکھا

نہ لکھا اس نے کوئی بھی مکتُوب
پھر بھی ہم نے جواب ہی لکھا

دوستو ہم نے اپنا حال اُسے
جب بھی لکھا، خراب ہی لکھا

ہم نے اُس شہر دین و دولت میں
مسخروں کو جناب ہی لکھا

جون ایلیا

کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو

کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو
کہ روٹھتے ہو کبھی اور منانے لگتے ہو

گِلہ تو یہ ہے، تم آتے نہیں کبھی لیکن
جب آتے بھی ہو تو فوراً ہی جانے لگتے ہو

تمہاری شاعری کیا ہے بھلا، بھلا کیا ہے؟
تم اپنے دل کی اُداسی کو گانے لگتے ہو

سرودِ آتشِ زریں، صحنِ خاموشی
وہ داغ ہے جسے ہر شب جلانے لگتے ہو

سنا ہے کہکشاؤں میں روز و شب ہی نہیں
تو پھر تم اپنی زباں کیوں جلانے لگتے ہو

یہ بات جون تمہاری مذاق ہے کہ نہیں
کہ جو بھی ہو، اسے تم آزمانے لگتے ہو

جون ایلیا

Nayi Khuwahish Rachaai Ja Rahi Hai,

Nayi Khuwahish Rachaai Ja Rahi Hai,
Teri Furqat Manaai Ja Rahi Hai,

Nabhaai Thi Na Hum Ne Jaanay Kis Se,
K Ab Sab Se Nibhaai Ja Rahi Hai,

Ye Hai Taameer-e-Duniya Ka Zamaana,
Haweli Dil Ki Dhaai Ja Rahi Hai,

Kahan Lazzat Wo Soz Justujoo Ki,
Yahan Har Cheez Paai Ja Rahi Hai,

Sun Ay Sooraj Judaai Mausamon K,
Meri Kyaari Jalaai Ja Rahi Hai,

Bohat Be-Haal Hai Basti, Tere Log,
To Phir, To Kiyun Sajaai Ja Rahi Hai,

Khosha Ahwaal Apni Zindagi Ka,
Saleeqay Se Ganwaai Ja Rahi Hai ...

Poet : Jaun Elia
Contribute : Zahid Shah

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے

نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے

یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے

کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے

سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے

بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے

خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے

جون ایلیا

بزم سے جب نگار اٹھتا ہے

بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
میرے دل سے غبار اٹھتا ہے

میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت
دیکھ لو! بار بار اٹھتا ہے

تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے

اس کی گُل گشت سے روش بہ روش
رنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے

تیرے جاتے ہی اس خرابے سے
شورِ گریہ ہزار اٹھتا ہے

کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں؟
لے ترا جاں نثار اٹھتا ہے

صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزال
دشت سے خاکسار اٹھتا ہے

ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سا
بر سرِ کوہسار اٹھتا ہے

کربِ تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے

تو نے پھر کَسبِ زَر کا ذکر کیا
کہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے

لو وہ مجبورِ شہر صحرا سے
آج دیوانہ وار اٹھتا ہے

اپنے ہاں تو زمانے والوں کا
روز ہی اعتبار اٹھتا ہے

جون اٹھتا ہے، یوں کہو، یعنی
میر و غالب کا یار اٹھتا ہے --

جون ایلیا

بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمھاری ہے

اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے

ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے

خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امید واری ہے

جون ایلیا

کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو

کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو
تُو اس بستی میں رہیو پر نہ رہیو

سفر کرنا ہے آخر دو پلک بیچ
سفر لمبا ہے بے بستر نہ رہیو

ہر اک حالت کے بیری ہیں یہ لمحے
کسی غم کے بھروسے پر نہ رہیو

ہمارا عمر بھر کا ساتھ ٹھیرا
سو میرے ساتھ تُو دن بھر نہ رہیو

بہت دشوار ہو جائے گا جینا
یہاں تُو ذات کے اندر نہ رہیو

سویرے ہی سے گھر آجائیو آج
ہے روزِ واقعہ باہر نہ رہیو

کہیں چھپ جاؤ تہ خانوں میں جا کر
شبِ فتنہ ہے اپنے گھر نہ رہیو

نظر پر بار ہو جاتے ہیں منظر
جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو

جون ایلیا

زخمِ امید بھر گیا کب کا

زخمِ امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کُوچ کر گیا کب کا

دکھ کا لمحہ ازل ابد لمحہ
وقت کے پار اتر گیا کب کا

اپنا منہ اب تو مت دکھاؤ مجھے
ناصحو، میں سُدھر گیا کب کا

نشہ ہونے کا بےطرح تھا کبھی
پر وہ ظالم اتر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں؟
دل میری جاں، مر گیا کب کا

جون ایلیا

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم
ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں

تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم
میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوںمیں

تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میں
اور اسطرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں

تم جس زمین پر ہو میں اُس کا خدا نہیں
پس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو

بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم
جب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو

تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرض
تم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو

میں ابتدائے عشق سے بے مہر ہی رہا
تم انتہائے عشق کا معیار ہی رہو

تم خون تھوکتی ہو یہ سُن کر خوشی ہوئی
اس رنگ اس ادا میں بھی پُر کار ہی رہو

میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات
میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو

اپنی متاعِ ناز لُٹا کر مرے لیئے
بازارِ التفات میں نادار ہی رہو

جب میں تمہیں نشاطِ محبت نہ دے سکا
غم میں کبھی سکونِ رفاقت نہ دے سکا

جب میرے سب چراغِ تمنا ہوا کے ہیں
جب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں

پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں
تنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں

جون ایلیا

بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے

بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حزن دل میں نکہت موج صبا سے ہے

دستِ شجر کی تحفہ رسانی ہے تا بہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سےہے

جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے

دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
ناآشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے

اس میں کوئی گلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے

آئے وہ کِس ہنر سے لبوں پر کہ مجھ میں جون
اک خامشی ہے جو مرے شورِ نوا سے ہے

جون ایلیا

ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں

ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں
جانے یہ کون آ رہا مجھ میں

جون مجھ کو جلا وطن کر کے
وہ مرے بِن بھلا رہا مجھ میں

مجھ سے اُس کو رہی تلاشِ امید
سو بہت دن چھپا رہا مجھ میں

تھا قیامت سکوت کا آشوب
حشر سا اک بپا رہا مجھ میں

پسِ پردہ کوئی نہ تھا پھر بھی
ایک پردہ کھِنچا رہا مجھ میں

مجھ میںآکے گرا تھا اک زخمی
جانے کب تک پڑا رہا مجھ میں

اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں

جون ایلیا

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو

تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو

تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو

جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا
یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو

کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو

جون ایلیا

وہ جو کیا کچھ نا کرنے والے تھے

وہ جو کیا کچھ نا کرنے والے تھے
بس کوئی دم نہ بھرنے واے تھے

تھے گلے اور گرد باد کی شام
اور ہم سب بکھرنے والے تھے

وہ جو آتا تو اس کی خوشبو میں
آج ہم رنگ بھرنے والے تھے

صرف افسوس ہے یہ طنز نہیں
تم نہ سنوارے ، سنوارنے والے تھے

یوں تو مرنا ہے اک بار مگر
ہم کئی بار مرنے والے تھے

جون ایلیا

ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے

ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے

ہے ندامت لہو نہ رویا دل
زخم دل کے کسی چٹان میں تھے

میرے کتنے ہی نام اور ہمنام
میرے اور میرے درمیان میں تھے

میرا خود پر سے اِعتماد اُٹھا
کتنے وعدے مری اُٹھان میں تھے

تھے عجب دھیان کے در و دیوار
گرتے گرتے بھی اپنے دھیان میں تھے

واہ! اُن بستیوں کے سنّاٹے
سب قصیدے ہماری شان میں تھے

آسمانوں میں گر پڑے یعنی
ہم زمیں کی طرف اُڑان میں تھے

جون ایلیا

حال خوش تذکرہ نگاروں کا

حال خوش تذکرہ نگاروں کا
تھا تو اک شہر خاکساروں کا

پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا

کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
بسترا اب کہاں ہے یاروں کا

چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
کون پُرساں ہے یادگاروں کا

اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا

ان سے جو شہر میں ہیں بے دعوى
عیش مت پوچھ دعویداروں کا

کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
نہ پیادوں کا نہ سواروں کا

بات تشبیہہ کی نہ کیجو تُو
دہر ہے صرف استعاروں کا

میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
کیا ہوا جانے جانثاروں کا

کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا

جون ایلیا

ایک سایہ مرا مسیحا تھا

ایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا

وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حُجرے سے کم نکلتا تھا

تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کے جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا

بات تو دل شکن ہے پر، یارو!
عقل سچی تھی، عشق جھوٹا تھا

اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا

جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا

جون ایلیا

کون سا قافلہ ھے یہ ،

کون سا قافلہ ھے یہ ، جس کے جرس کا ھے یہ شور
میں تو نڈھال ھو گیا ، ھم تو نڈھال ھوگئے

خار بہ خار گل بہ گل فصل بہار آ گئی
فصل بہار آ گئی ، زخم بحال ھو گئے

شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خوں بہا مگر ترے ھاتھ تو لال ھو گئے

ھم نفسان وضع دار ، مستمعان بردبار
ھم تو تمہارے واسطے ایک وبال ھو گئے

جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ھو چکے اب کئی سال ھو گئے

جون ایلیا

عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیلچڑھے

عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیلچڑھے
کیاری میں پانی ٹھہرا ھے دیواروں پر کائی ھے

حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ھرجائی ھے

آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ھی دروازہ کھولا ھے اس کی خوشبو آئی ھے

ایک تو اتنا حبس ھے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ھوں
ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھولاڑائی ھے

جون ایلیا

جانے کب سے ---

جانے کب سے
مجھے یاد بھی تو نہیں جانے کب سے
ھم اک ساتھ گھر سے نکلتے ھیں
اور شام کو
ایک ھی ساتھ گھر لوٹتے ھیں
مگر ھم نے اک دوسرے سے
کبھی حال پرسی نہیں کی
نہ اک دوسرے کو
کبھی نام لے کر مخاطب کیا
جانے ھم کون ھیں؟

جون ایلیا

So Wo Aansu Hamare Aakhri Aansu Thay

So Wo Aansu Hamare Aakhri Aansu Thay
Jo Hum Nay Galay Milkar Bahaye Thay
Na Janay Waqt Un Aansuon Say Kis Taur Pesh Aaya,
Magar Meri Fareb-E-Waqt ki Behki Hui Aankhon Nay,
Us K Baad Bhi,
Aansu Bahaye Hain,
Mere Dil Nay
Bohat Say Dukh Rachaaye Hain,
Magar Yun Hai K
Maah-O-Saal Ki Is Rayegaani Mein,
Meri Aankhein,
Galay Miltay Huey Rishton Ki Furqat K Wo Aansu,
Shayad,
Phir Na Ro Paayein,
So Wo Aansu Hamare Aakhri Aansu Thay ...

Poet : Jaun Elia

سو وہ آنسو ھمارے آخری آنسو تھے

سو وہ آنسو ھمارے آخری آنسو تھے
جو ھم نے گلے ملکر بہائے تھے
نہ جانے وقت ان آنکھوں سے پھر کس طور پیش آیا
مگر میری فریب وقت کی بہکی ھوئی آنکھوں نے
اس کے بعد بھی
آنسو بہائے ھیں
مرے دل نے بہت سے دکھ رچائے ھیں
مگر یوں ھے کہ ماہ و سال کی اس رائیگانی میں
مری آنکھیں
گلے ملتے ھوئے رشتوں کی فرقت کے وہ آنسو
پھر نہ رو پائیں

جون ایلیا

چاہتا ھوں کہ بھول جاؤں تمہیں

چاہتا ھوں کہ بھول جاؤں تمہیں
اور یہ سب دریچہ ھائے خیال
جو تمہاری ھی سمت کھلتے ھیں
بند کر دوں کہ کچھ اسطرح کہ یہاں
یاد کی اک کرن بھی آ نہ سکے
چاھتا ھوں کہ بھول جاؤں تمہیں
اور خود بھی نہ یاد آؤں تمہیں
جیسے تم صرف اک کہانی تھیں
جیسے میں صرف اک فسانہ تھا

جون ایلیا

شوق کا رنگ بُجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے

شوق کا رنگ بُجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے
کیا میری فصل ہو چُکی کیا میرے دن گُزر گئے

راہگُزرِ خیال میں دوش بدوش تھے جو لوگ
وقت کے گردباد میں جانے کہاں بکھر گئے

شام ہے کتنی بے تپاک شہر ہے کتنا سہم ناک
ہم نفسو کہاں ہو تم جانے یہ سب کدھرگئے

آج کی شام ہے عجیب کوئی نہیں میرے قریب
آج سب اپنے گھر رہے آج سب اپنے گھر گئے

رونقِ بزمِ زندگی طُرفہ ہیں تیرے لوگ بھی
اک تو کبھی نہ آئے تھے، گئے تو رُوٹھ کر گئے

خوش نفسانِ بےنوا، بے خبرانِ خوش ادا
تِیرہ نصیب تھے مگر شہر میں نام کر گئے

آپ بھی جون ایلیا سوچئے اب دھرا ہے کیا
آپ بھی اب سدھاریئے آپ کے چارہ گر گئے

جون ایلیا

ہم جو گاتے چلے گئے ہوں گے

ہم جو گاتے چلے گئے ہوں گے
زخم کھاتے چلے گئے ہوں گے

تھا ستم بار بار کا ملنا
لوگ بھاتے چلے گئے ہوں گے

دور تک باغ اُسکی یادوں کے
لہلہاتے چلے گئے ہوں گے

دشتِ آشفتگی میں خاک بسر
خاک اُڑاتے چلے گئے ہوں گے

فکر اپنے شرابیوں کی نہ کر
لڑکھڑاتے چلے گئے ہوں گے

ہم خود آزار تھے سو لوگوں کو
آزماتے چلے گئے ہوں گے

ہم جو دُنیا سے تنگ آئے ہیں
تنگ آتے چلے گئے ہوں گے

جون ایلیا

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم



نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

وفا، اخلاص، قربانی،مرو ّت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم

زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کری ہم

ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

کیا تھا عہد جب لحموں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم

اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم

جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم

نہیں دُنیا کو جب پرواہ ہماری
تو پھر دُنیا کی پرواہ کیوں کریں ہم

برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردا کیوں کریں ہم

ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسہ کیوں کریں ہم

پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم

یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم

جون ایلیا

دل میں رہنے کی جگہ دو تو مزہ آجائے

دل میں رہنے کی جگہ دو تو مزہ آجائے
زلف زنجیر بنا دو تو مزہ آجائے

چشمِ حیراں کو تجلی کی ہے خواہش ہر پل
پھر سے اک طُور جلا دو تو مزہ آجائے

وصل کا خواب جو دیکھا تھا شبِ فرقت میں
اسکو تعبیر بنا دو تو مزہ آجائے

میرا ہمشکل ہے اک شخص سرِ آئینہ
تم اسے مجھ سے ملا دو تو مزہ آجائے

زندگی کی تو سبھی ہم کو دعا دیتے ہیں
تم ہمیں زہر پلا دو تو مزہ آجائے

میں تو صحرا ہوں محبت کا مرے خشک ہیں لب
تم مری پیاس بجھا دو تو مزہ آجائے

دل کا ویرانہ ہے تاریک بہت، لیکن تم
آکے اک شمع جلا دو تو مزہ آجائے

روز پیتا ہوں سَبُو سے تو اسد، اِم شَب تم
اپنے ہونٹوں سے پلا دو تو مزہ آجائے

جون ایلیا

Hum Musafir Yunhi Masroof-e-Safar Jain Gay

Hum Musafir Yunhi Masroof-e-Safar Jain Gay

Bay Nishaan Ho Gay Jab Shahr Tu Ghar Jain Gay

Kis Qadar Ho Ga Yahaan Mehr-o-Wafa Ka Matam

Hum Teri Yaad Say Jis Roz Utr Jain Gay

Johri Bnd Kiye Jatay Hain Bazar-e-Sukhan

Hum Kisay Baichnay Almas-s-Gohr Jain Gay

Nemat-e-Zeast Ka Yea Qarz Chukay Ga Kaisy

Lakh Ghabra Kay Yea Kehty Rahin, Mar Jain Gay

Shaid Apna Bhi Koi Beat-e-Hadi Khawaan Ban Kr

Sath Jay Ga Mery Yar Jidhar Jain Gay

Faiz Aaty Hain Rah-e-Ishq Mein Jo Sakht Maqaam

Aany Walo Say Kaho Ham Tu Guzar Jain Gay ...

Poet : Faiz Ahmed Faiz
Contributed : Zahid Shah

KHIZAA'N ....

Hawa Ki Aawaaz
Khushk Patto'n Ki Sar-sarahat Se Bhar Gai
Rosh-Rosh Par Fatada Phoolo'n Ne
Lakhon Nauhe Jaga Diye Hain
Sileti Shua'yein
Buland Pairro'n Par Gul Machate
Siyah Kawwo'n Ki Qafilon se ati hui hain
har ek janib khizan k qasid lapak rahe hain
har ek janib khizan ki awaz gunjati hai
har ek basti kashkash-e-marg-o-zindagi se nidhal ho kar
Musafiron ko pukarti hai k- Aao
Mujh ko khizan k bemahar
Talkh Ehsas se bachao ...

Poet : Munir Niazi

Khalish-e-Hijr-e-Dayami Na Gai ...

khalish-e-hijr-e-dayami na gai
tere rukh se ye berukhi na gai

Poochte hain k kya hua dil ko
husn walon ki saadgi na gai

sar se sauda gaya muhabbat ka,
dil se par is ki bekali na gai,

aur sab ki hikayaten keh dee'n
baat apni kabhi kahi na gai,

hum bhi ghar se 'Munir' tab nikle
baat apnon ki jab sahi na gai ...

Poet : Munir Niazi
Contribute : Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

Hamesha Dair Kar Deta Hoon

Hamesha Dair Kar Deta Hoon
Zaroori Baat Kehni Ho
Koi Wada Nibhana Ho
Ussay Aawaaz Deni Ho
Ussay Waapis Bulaana Ho
Hamesha Dair Kar Deta Hoon Main
Madad Karna Ho Us Ki
Yaar Ki Dhaaras Bandhana Ho
Bohat Deir Hi Na Raston Par
Kisi Say Milnay Jaana Ho
Hamesha Deir Kar Deta Hoon Main
Badaltay Mausamon Ki Sair Mein
Dil Ko Lagaana Ho
Kisi Ko Yaad Rakhna Ho
Kisi Ko Bhool Jaana Ho
Hamesha Deir Kar Deta Hoon Main
Kisi Ko Maut Say Pehlay
Kisi Gham Say Bachana Ho
Haqeeqat Aur Thi Kuch
Us Ko Jaa K Yeh Bataana Ho
Hamesha Deir Kar Deta Hoon Main !

Poet : Munir Niazi
Contribute : Zahid Shah

Sab Ko Dil K Daagh Dikhaye, Aik Tujhi Ko Dikha Na Sakay

Sab Ko Dil K Daagh Dikhaye, Aik Tujhi Ko Dikha Na Sakay

Tera Daaman Door Nahi Tha Haath Hami Philaa Na Sakay

Tu Ay Dost Kahaan Lay Aaya Chehra Ye Khwarsheed Jamaal

Seenay Mein Abaad Karen Gay, Aankhon Mein To Samaa Na Sakay

Na Tujh Say Kuch Hum Ko Nisbat, Na Tujh Ko Kuch Hum Say Kaam

Hum Ko Ye Maloom Tha Lekin Dil Ko Ye Samjha Na Sakay

Ab Tujh Say Kis Moonh Say Keh Dain 7 Samandar Paar Na Jaa

Beech Ki Ik Deewaar Bhi Hum To Phaand Na Paye, Dhaa Na Sakay

Man Paapi Ki Ujhri Khetii Sookhi Sookhi Hi Rahi

Umday Baadal Garjay Baadal Boondain 2 Barsaa Na Sakay.

Poet : Ibn-E-Insha
Contribute : Zahid Shah

Qurb K Na Wafa K Hotay Hain

Qurb K Na Wafa K Hotay Hain
Saaray Jhagray Anaa K Hotay Hain

Baat Niyat Ki Sirf Hai Warna
Waqt Saray Dua K Hotay Hain

Bhool Jatay Hain, Mat Bura Kehna
Log Putlay Khata K Hotay Hain

Wo Bazahir Jo Kuch Nahi Lagtay
Un Say Rishtay Bala K Hotay Hain

Wo Humara Hai Is Tarah Say Faiz
Jaisay Banday Khuda K Hotay Hain ....

Contribute : Zahid Shah
Poet : Faiz Ahmed Faiz

Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada,


Ay Gham_e_Zindagi Kuch To Day Mashwara,
Teri Nigaah Say Aisi Sharaab Pee Main Nay,
K Phir Na Hosh Ka Daawa Kiya Kabhi Hum Nay,
Wo Aur Hon Gay Jinhein Mout Aa Gayi Ho Gi,
Nigaah_e_Say Payi Hai Zindagi Main Nay,
Ay Gham_e_Zindagi Kuch To Day Mashwara,
Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada,

Main Kahaan Jaon, Hota Nahi Ye Faislaa,
Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada,

Ik Taraf Baam Par Koi Gulfaam Hai,
Ik Taraf Mehfil_e_Bada_Jaam Hai,
Dil Ka Dono'n Say Hai Kuch Na Kuch Waasta,
Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada,

Us K Darr Say Uthaa, To Kidhar Jaon Ga,
Mai_Kada Chhor Doon Ga, To Mar Jaon Ga,
Sakht Mushkil Mein Hoon, Kya Karoon Ay Khuda,
Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada,

Zindagi Aik Hai Aur Talab_gaar Do,
Jaan Akeli, Magar Jaan K Haq_daar Do,
Dil Bata, Pehle Kis Ka Karoon Haq Adaa ?
Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada,

Is Ta'alluq Ko Main Kaisay Touroo'n Zafar,
Kis Ko Apnaa'on Main, Kis Ko Chhoroo'n Zafar,
Mera Dono'n Say Rishta Hai Nazdeek Ka,
Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada,

Main Kahaan Jaon, Hota Nahi Ye Faislaa,
Ik Taraf Us Ka Ghar, Ik Taraf Mai_Kada ....

Contribute : Zahid Shah

Dil -e- Naakaam K Hain Kaam Kharaab,

Dil -e- Naakaam K Hain Kaam Kharaab,
Kar Liya Aashqi Mein Naam Kharaab,

Is Kharaabat Ka Yahi Hai Mazaa,
K Rahay ... Aadmi Muddaam Kharaab,

Zulf Hai Choar, Chashm Yaar Shareer,
Husn Ka Sub Hai Intizaam Kharaab.,

Dekh Kar Jins Dil W0 Kehtay Hain,
Kiyun Karay Koi Apnay Daam Kharaab,

Abar-e-Tar Say Saba Hi Achi Thi,
Meri Matti Hui Tamaam ...Kharaab,

Woh Bhi Saaqi MuJhe Nahi Daita,
Woh Jo Toota Para Hai Jaam Kharaab,

Kya Mila Hum Ko Zindagi K Siwaa ?
Wo Bhi Dushwaar, Na_Tamaam Kharaab,

Wo Kya Moonh Say Phool Jhartay Hain,
Khoob_Roo Ho K Ye Kalaam Kharaab,

Chal K Raah Numay-E-Ishq Nay Bhi,
Wo Dikhaya Jo Tha ! Maqaam Kharaab,

Daagh' Hai Bad_Chalan To Honay Do,
So Mein Hota Hai Ik Ghulaam Kharaab ...

Poet : Daagh Dehlvi
Contribute : Zahid Shah

Likh Diya Apne Dar Pe Kisi Nay,

Likh Diya Apne Dar Pe Kisi Nay,
Is Jagah Pyaar Karna Manaa Hai

Pyaar Agar Ho Bhi Jaaye Kisi Ko
Iska Izhaar Karna Manaa Hai

Pehle Nazrein Woh Apni Jhukaye
Pehle Nazrein Woh Apni Jhukaye

Wo Sanam Jo Khuda Ban Gaye Hai
Unka Deedaar Karna Manaa Hai

Jaag Utheay To Aahein Bharein Gay
Husn Waalon Ko Ruswaa Karein Gay

So Gaye Hain Jo Furqat K Maare
Un Ko Bedaar Karna Manaa Hai

Hum Nay Ki Arz Ay Banda Parwar
Kiyoon Sitam Dhaa Rahay Ho Ye Hum Per

Baat Sun Ker Hamari Wo Bolay
Hum Say Taqraar Karna Mana Hai

Saamnay Jo Khula Hai Jharoka
Kha Na Jaana Qateel Unka Dhoka

Ab Bhi Apnay Liye Us Gali Mein
Shouq-E-Deedaar Karna Manaa Hai

Likh Diya Apne Dar Pay Kisi Nay
Is Jaga Pyar Karna Mana Hai ...

Poet: Qateel Shafai
Contribute : Zahid Shah

Ghamzada Nahi Hota K Ishaara Nahi Hota

Ghamzada Nahi Hota K Ishaara Nahi Hota

Aankh Un Say Jo Milti Hai To Kya Kya Nahi Hota

Jalwa Na Ho Ma'ani Ka To Soorat Ka Asar Kya

Bulbul Gul - E - Tasweer Ka Shaida Nahi Hota

Allah Bachaye Marz -E - Ishq Say Mujh Ko

Suntay Hain K Yeh Aarza Acha Nahi Hota

Tashbeeh Tere Chehre Ko Kya Doon Gul -E- Tar Say

Hota Hai Shugufta , Magar Itna Nahi Hota

Hum Aah Bhi Kartay Hain To Ho Jatay Hain Badnaam

Who Qatal Bhi Kartay Hain To Charcha Nahi Hota ....

Poet : Akbar Alaabadi
Contribute : Zahid Shah

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی آتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی آتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا تیرے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی ایک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے ...

احمد فراز

سکوں بھی خواب ہوا ، نیند بھی ہے کم کم پھر

سکوں بھی خواب ہوا ، نیند بھی ہے کم کم پھر
قریب آنے لگا دوریوں کا موسم پھر

بنا رہی ہے تری یاد مجھ کو سلک گہر
پرو گئی مری پلکوں میں آج شبنم پھر

وہ نرم لہجے میں کچھ کہہ رہا ہے پھر مجھ سے
چھڑا ہے پیار کے کومل سروں میں مدھم پھر

تجھے مناؤں کہ کہ اپنی انا کی بات سنون
الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

نہ اس کی بات میں سمجھوں نہ وہ مری نظریں
معاملاتِ زباں ہو چلے ہیں مبہم پھر

یہ آنے والا نیا دکھ بھی اس کے سر ہی گیا
چٹخ گیا مری انگشتری کا نیلم پھر

وہ ایک لمحہ کہ جب سارے رنگ ایک ہوئے
کسی بہار نے دیکھا نہ ایسا سنگم پھر

بہت عزیز ہیں آنکھیں مری اسے لیکن
وہ جاتے جاتے انہیں کر گیا ہے پر نم پھر‎ ‎...

Sukoon bhi khuwaab hua, Neend bhi hai kam kam phir

Sukoon bhi khuwaab hua, Neend bhi hai kam kam phir

Qareeb aaney laga dooriyon ka mausam phir

Bana rahi hai teri yaad Mujh ko silk-e- kauhar

Piro gaee meri palkon pay aaj shabnam phir

Woh narm lehjey mein keh raha hai phir mujh sey

Chhirra hai pyar k komal suron mein madham phir

Tujhe manaaoon k apni Anaa ki baat sunoon

Ulajh raha hai mere faisalon ka resham phir

na uski baat main samjhoon, na woh meri Nazrein

Muaamlaat-e-zubaan ho chalay hain mubham phir

Ye aaney wala naya dukh bhi us k sar hi gaya

chatakh gaya meri angashteri ka neelam phir

Woh aik lamha k jab saarey rang aik huey

Kisi bahaar ney dekha na aisa sangam phir

Bohat, aziz hain meri Aankhein usey, lekin

Wo jaatey jaatey inhein kar gaya hai purnam phir ...

سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا

کیا کیا اُلجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینہء صد چاک شانہ کیا؟

زیرِ زمین سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قاروں نے راستے میں خزانہ لٹایا کیا؟

چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا

طبل و عَلم ہے پاس نہ اپنے ہے ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

صیّاد گُل عذار دکھاتا ہے سیرِ باغ
بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا

یوں مدّعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
آتِش غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا

Sun to sahi, jahan men hai tera fasana kya?

Sun to sahi, jahan men hai tera fasana kya?
Kehti hai tujh ko khalq-e-Khuda, ghaibana kya?

Zer-e-zamee'n say ata hai go gul_soz rabakuf
Qaaroo'n nay raastey mein lutaya, khazana kya

Chaaron taraf say soorat jaana'n ho jalwa_gar
Dil saaf ho tera, tu hai aaeena khana kya

Siyaad ! aseer daam rag gul hai andleeb
Dikhla raha hai chup k usey daam dawana kya

Talb-o-ilm na paas hai apne, na mulk-o-maal
Hum sey khilaaf ho k karey ga zamana kya

Aati hai kis tarah sey mir qabz rooh ko
Dekhoon to mout dhoond rahi hai bahana kya

Tirchi nigah sey taair dil ho chuka shikaar
Jab teer kajj parrey ga, urrey ga nishana kya

Yoon muddai hasad say na day daad, tu na dey
Aatish ghazal ye tu nay kahi aashiqana kya !

Poet : Haider Ali Atish
Contribute : Zahid Shah

Dar K Kisi Se Chup Jata Hai Jaise Saanp Khazaane main,

Dar K Kisi Se Chup Jata Hai Jaise Saanp Khazaane main,

zar k zor se zinda hain sab khak k is veerane main,

jaise rasm adaa karte hon shehron ki abadi main,

subah ko ghar se dur nikal kar sham ko wapis aane main,

neele rang main doobi ankhen khuli pari theen sabze par,

aks para tha asman ka shayad is paimaane main,

dil kuch aur bhi sard hua hai sham-e-shehar ki ronaq main,

kitni ziya be-sood gai hai sheeshe k lafz jalane main,

main to 'Munir' aaeene main khud ko tak kar hairaan hua,

ye chehra kuch aur tarah tha pahle kisi zamane main ...

Poet : Munir Niazi

Chaman Mein Rang_E_ Bahaar Utra To Main Nay Dekha.

Chaman Mein Rang_E_ Bahaar Utra To Main Nay Dekha.

Nazar Say DilL Ka Gubaar Utra To Main Nay Dekha.

Main Neem Shab Aasmaa'n Ki Wus'att Ko Dekhta Tha.

Zameen Pay Wo Husn-Zaar Utraa To Main Nay Dekha.

Gali K Baahir Tamam Manzar Badal Gaye Thay.

Jo Saaya_E_Koo-E-Yaar Utra To Main Nay Dekha.

Khumaar-e-May Main Wo Chehra Kuch Aur Lag Raha Tha.

Dam-e-Saher Jab Khumaar Utra To Main Nay Dekha.

Ik Aur Dariya Ka Saamna Tha MUNEER Mujh Ko.

Main Aik Darya K Paar Utra To Main Nay Dekha ...

Poet : Muneer Niazi
Contribute : Zahid Shah

Zinda Rahein To Kya Hai Jo Mar Jaye Hum To Kya ?

Zinda Rahein To Kya Hai Jo Mar Jaye Hum To Kya ?

Duniya Mein Khamoshi Say Guzar Jaye Hum To Kya,

Hasti Hi Apni Kya Hai Zamaney K Saamney,

Ik Khuwaab Hai Jahan Mein Bikhar Jayein Hum To Kya,

Ab Koun Muntazir Hai Hamare Liye Wahan,

Shaam Aa Gayi Hai Lout K Ghar Gaye Hum To Kya,

Dil ki Khalish To Sath Rahe Gi Tamaam Umer,

Dariya_E_Gham K Paar Utar Jaye Hum To Kya...

Poet : Munir Niazi
Contribute : Zahid Shah

Toota Hai Mere Pyar Ka Bandhan To Kya Hua ?

Toota Hai Mere Pyar Ka Bandhan To Kya Hua ?

Barsa Hai Meri Aankh Se Saawan To Kya Hua ?

Yoon Bhi To Saari Duniya Se Katt K Jiya Hoon Main,

Tu Bhi Hua Hai Ab Mera Dushman To Kya Hua ?

Seene Mein Dard, Aankh Mein Aansoo Saje To Hain,

Khaali Hai Tere Pyar Se Daaman To Kya Hua ?

Mujh Ko Yaqeen Hai K Mohabbat Bhi Aai Gai,

Nafrat Mein Katt Gaya Mera Bachpan To Kya Hua ?

Mujh Ko Bhi Pyar Oonchi UrraanoN Se Tha Jaana,

Taqdeer Mein Nahi Koi Nasheman To Kya Hua ???

Contribute : Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

Bechain bahut phirna ghabaraye hue rahna,

Bechain bahut phirna ghabaraye hue rahna,
ik ag si jazbon ki bahakaye hue rahna,

chalkaye hue chalana khushbu-e-begani ki,
ik bag sa tha apna mahkaye hue rahna,

is husn ka shewa hai, jab ishq nazar aye,
parde main chale jana, sharmaye hue rahna,

ik sham si kar rakhna kajal k karishme se,
ik chand sa ankhon main chamkaye hue rahna,

adat hi bana li hai tum ne to "Munir" apni,
jis shahar main bhi rahna uktaye hue rahna ...

Poet : Munir Niazi

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا

اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا

اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

منیر نیازی

Paish Karti Hai Ajab Husn Ka Meyaar Ghazal,

Paish Karti Hai Ajab Husn Ka Meyaar Ghazal,

Le Uri Hey Tera Lehja, Teri Guftar Ghazal,

Do Dharkte Hoe Dil Yun Dharak Uthe Ik Sath,

Jaise Mil Jul Ke Bana Dete Hain Ashaar Ghazal,

Koi Sheeren.sukhan Aya Bhi, Gaya Bhe Lekin,

Gungunate Hain Abhi Tak Dar-o-devaar Ghazal,

Main To Aaya Tha Yahan Chein Ki Sansein Laine,

Cheir Di Kisne Sar-e-daman-kohsaar Ghazal,

Maryam Sher Per Hain Ehl-e-hawas Ki Nazrain,

Fitna-e-Waqt Se Hai Barser-e-paikar Ghazal,

Tuu Ne Khat Main Mujhe Sarkar-e-Ghazal Likha Hai,

Tujh Pe Sou Baar Nichaver Meri Sarkar Ghazal ...

Contribute : Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

پیش کرتی ہے عجب حسن کا معیار غزل

پیش کرتی ہے عجب حسن کا معیار غزل
لے اُڑی ہے ترا لہجہ، تری گُفتار غزل

دو دھڑکتے ہوئے دل یوں دھڑک اُٹھّے اک ساتھ
جیسے مِل جُل کے بنا دیتے ہیں اشعار غزل

کوئی شیریں سخن آیا بھی، گیا بھی لیکن
گنگناتے ہیں ابھی تک در و دیوار غزل

میں تو آیا تھا یہاں چَین کی سانسیں لینے
چھیڑ دی کس نے سرِ دامنِ کہسار غزل

مریمِ شعر پہ ہیں اہلِ ہوَس کی نظریں
فتنۂ وقت سے ہے بر سرِ پیکار غزل

تو نے خط میں مجھے "سرکارِ غزل" لکھا ہے
تجھ پہ سو بار نچھاور مری سرکار، غزل

گھر کے بھیدی نے تو ڈھائی ہے قیامت شبنم
کر گئی ہے مجھے رسوا سرِ بازار غزل‎ ‎...

Khuda Kare K Meri Arz-e-Pak Par Utray

Khuda Kare K Meri Arz-e-Pak Par Utray
Wo Fasl-e-Gul Jisay Andesha-e-Zawal Na Ho

Yahan Jo Phool Khilay, Wo Khila Rahay Sadiyon
Yahan Khizan Ko Guzarnay Ki Bhi Majal Na Ho

Yahan Jo Sabza Ugay Wo Hamesha Sabz Rahay
Aur Aisa Sabz K Jis Ki Koi Misaal Na Ho

Khuda Kare K Na Kham Ho Sar-e-Waqar-e-Watan
Aur Is K Husn Ko Tashweesh-e-Mah-o-Saal Na Ho

Har Aik Fard Ho Tehzeeb-o-Fun Ka Aoj-e-Kamal
Koi Malol Na Ho Koi Khasta Haal Na Ho

Khuda Kare K Mere Ik Bhi Ham Watan K Liye
Hayat Jurm Na Ho Zindagi Wabal Na Ho ...

Poet : Ahmed Nadeem Qasmi

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

احمد ندیم قاسمی

Mehfilein Lut Gaeen, Jazbaat Nay Dam Torr Diya,

Mehfilein Lut Gaeen, Jazbaat Nay Dam Torr Diya,

Saaz Khaamosh Hain, Naghmaat Nay Dam Torr Diya,

Har Musarrat Gham_e_Deros Ka Unwaan Bani,

Waqt Ki Goad Mein Lamhaat Nay Dam Torr Diya,

Un_Gint Mehfilein Mehroom_e_Charaaghaan Hain Abhi,

Kaun Kehta Hai K Zulmaat Nay Dam Torr Diya,

Aaj Phir Bhuj Gaye Jal Jal K Umeedon K Charaagh,

Aaj Phir Taaron Bhari Raat Nay Dam Torr Diya,

Jin Say Afsaana_e_Hasti Mein Tasalsal Tha Kabhi,

Un Mohabbat Ki Rawayaat Nay Dam Torr Diya,

Jhilmilaatay Huey Ashkon Ki Larri Toot Gayi,

Jagmagaati Hui Barsaat Nay Dam Torr Diya,

Haaye ... Aadaab_e_Mohabbat K Taqaazay SAGHAR,

Lab Hillay Aur Shakayaat Nay Dam Torr Diya ....

Poet : Saghar Siddiqui
Contribute : Zahid Shah

محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا

محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑدیا

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دَم توڑدیا

آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کےچراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑدیا

جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑدیا

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا

ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑدیا

ساغر صدیقی

Bhooli Hui sadaa hoon mujhe yaad kijiye

Bhooli Hui sadaa hoon mujhe yaad kijiye

Tum say kaheen milaa hoon mujhe yaad kijiye

Manzil nahi hoon, Khizr nahi, Raahzan nahi,

Manzil ka Raastaa hoon mujhe yaad kijiye

Meri Nigaah-e-shouq say har Gull hai devtaa

Main ishq kaa Khuda hoon mujhe yaad kijiye

Naghmon ki ibtedaa thi kabhi Mere naam say,

Ashkon ki intehaa hoon mujhe yaad kijiye,

Gum-sum kharri hain dono'n Jahaan ki haqeeqatein

Main un say keh rahaa hoon mujhe yaad kijiye

"Sagar" kisi k husn-e-taghaaful shaar ki

Behki hui adaa hoon mujhe yaad kijiye ...

Poet : Sagar Siddiqui
Contribute : Zahid Shah