Click Here

Tuesday, August 14, 2012

تمہیں پا کے کھونا میرے بس میں نہیں














تمہیں پا کے کھونا میرے بس میں نہیں

اب کوئی اور زخم پرونا میرے بس میں نہیں

اک عمر تک دھویا ہے دل کے داغوں کو

اب یہ داغ دھونا میرے بس میں نہیں

جاگ چکے ہیں بہت شب کی تنہائیوں میں

کہ اب راتوں کو سونا میرے بس میں نہیں

خوشیوں کی آخری امید لے کے آیا ہوں تیرے در پہ

دکھوں میں اب اور رونا میرے بس میں نہیں

تیرے بعد نظر آتی نہیں مجھے کوئی بھی منزل

 ... کسی اور کا ہونا اب میرے بس میں نہیں

No comments:

Post a Comment