Click Here

Showing posts with label Urdu Font Ghazals. Show all posts
Showing posts with label Urdu Font Ghazals. Show all posts

Wednesday, September 9, 2015

غزل سن کر پریشان ہو گئے کیا

غزل سن کر پریشان ہو گئے کیا
کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا
یا بیگانہ روی پہلے نہیں تھی
کہو تم بھی کسی کے ہو گئے کیا
ابھی کچھ دیر پہلے تک یہیں تھے
زمانہ ہو گیا تم کو گئے کیا
کسی تازہ رفاقت کی للک ہے
پرانے زخم اچھے ہو گئے کیا
پلٹ کر چارا گر کون آ گئے ہیں
شب فرقت کے مرے سو گئے کیا
فراز اتنا نا اترا حوصلے پر
اسے بھولے زمانے ہو گئے کیا

محبت ہے ۔

محبت ہے

تم سے کتنی محبت ہے یہ میں بتا نہیں سکتی
اپنی زندگی میں تمھاری اہمیت جتا نہیں سکتی

میری زندگی کا ہر لمحہ تمہی سے شروع ہوتا ہے
تم سے دور رہ کے ایک پل بھی اکیلے بتا نہیں سکتی

ممکن ہے میں خود کو بھول جاؤں
پر تجھے بھولنے کی خطا میں کر نہیں سکتی

تم میرے دل میں ہی نہیں میرے روم روم میں بسے ہو
تم سے بچھڑ کے میں یہ زندگی جی نہیں سکتی

یقین نہیں ہوتا کے تم چاہتے نہیں ہمیں
اپنے درد کو اپنی زبان سے بیان کر نہیں سکتی

آج وعدہ ہے میرے دل سے او میرے صنم
تمھارے سوا میں کسی اور کو چاہ نہیں سکتی

شرط

یہ تم جانتی ہو میں ضدی بہت ہوں
انا بھی ہے مجھ میں
میں سنتا ہوں دل کی (فقط اپنے دل کی)
کسی کی کوئی بات سنتا نہیں ہوں
مگر اپنی دھن میں صبح و شام رہنا
کوئی درد اپنا کسی سے نہ کہنا
یہ عادت ہے میری
میں عادت بھی کوئی بدلتا نہیں ہوں
یہ تم جانتی ہو
مگر یہ بھی سچ ہے
میں ضد چھوڑ دوں گا
انا کی یہ دیوار بھی توڑ دوں گا
بدل لوں گا ہر ایک عادت بھی اپنی
"اگر تم کہو گی"

Wednesday, May 20, 2015

پُھولوں کا انبار لگایا جا سکتا ہے


پُھولوں کا انبار لگایا جا سکتا ہے
ہر مقتل کو باغ بنایا جا سکتا ہے
۔
تَوبَہ پیاس بُجھا سکتی ہے دریاؤں کی
پانی کو پانی پِلوایا جا سکتا ہے
۔
رنگ، زبان اور نسل کے سارے فرق بُھلا کر
" آخری خطبہ " دھیان میں لایا جا سکتا ہے
۔
ختم کئے جا سکتے ہیں آپس کے جھگڑے
مِل جُل کر یہ شہر بچایا جا سکتا ہے
۔
آگ لگائی جا سکتی ہے تلخ زباں کو
لہجوں میں کچھ شہد ملایا جا سکتا ہے
۔
درویشوں کو زخم دکھائے جا سکتے ہیں
وَلیوں کو بھی حال سُنایا جا سکتا ہے
۔
دِل میں گر توحید کی مَشعَل روشن ہو تو
مندِر میں بھی دیپ جلایا جا سکتا ہے
۔
فرقہ بندی والی مسجد چھوڑ کے واصفؔ
صرف خدا کے گھر میں جایا جا سکتا ہے
( جبار واصفؔ )

Monday, November 4, 2013

تھوڑی کڑوی ضرور ہے بابا : ابن انشاء

تھوڑی کڑوی ضرور ہے بابا
اپنے غم کا مگر مداوا ہے
ذائقہ کا قصور ہے بابا
تلخ و شیریں میں فاصلہ کیا ہے
رنگ و روغن کو سال و سن کو نہ دیکھ
پیڑ گننا کہ آم کھانا ہے
عمر گزری ہے خانقاہوں میں
ایک شب یاں گزار جانا ہے
حسن مختوم خوب تھا بابا
کاش حصے میں آپ کے آسکتا
عشق معصوم کیا کہا بابا
کاش میں یہ فریب کھاسکتا
حسن کا مل عیار عشق نفیس
سب مراحل سے گزر چکا ہوں میں
دل خریدا تھا کبھی ان کا
اب فقط اتنا جانتا ہوں میں
ایک رنگین خواب تھے بابا
موجہ ہائے سراب تھے بابا
ورنہ سرحد پہ تشنہ کامی کی
مئے رنگیں ہے سادہ پانی ہے
شرط حسن و وفا اضافی ہے
قید تسکین نفس کافی ہے

ابن انشاء

جب درد کا دل پر پہرا ہو : ابن انشاء

جب درد کا دل پر پہرا ہو
اور جب یاد کا گھاؤ گہرا ہو
آ جائے گا آرام
جپوست نام
جپوست نام
یہ بات تو ظاہر ہے بھائی
ہے عشق کا حاصل رسوائی
پر سوچو کیوں ا نجام
جپوست نام
جپوست نام
یہ عمر کسی پر مرنے کی
کچھ بیت گئی کچھ بیتے گی
وہ پکی ہے تم خام
جپوست نام
جپوست نام
جب عشق کا درد تم بھرتے ہو
کیوں ہجر کے شکوے کرتے ہو
یہ عشق کا ہے انعام
جپوست نام
جپوست نام
سب اول اول گھبراتے ہیں
سبا خر آخر لے آتے
اس کافر پر اسلام
جپوست نام
ٍ جپوست نام
اب چھوڑ کے بیٹھو چپکے سے
سب جھگڑے دین اور دنیا کے
آتی ہے وہ خوش اندام
جپوست نام
جپوست نام
جہاں میر سفر ،وزیر بھی ہے
اس بھیڑ میں ایک فقیر بھی ہے
اور اس کا ہے یہ کلام
جپوست نام
جپوست نام

ابن انشاء

سکھ کے سپنے دیکھتے جاگے : ابن انشاء

سکھ کے سپنے دیکھتے جاگے
جگ جگ کے دکھیارے سائیں
کھلتا ہے محنت کا پرچم
سنتے ہو جیکارے سائیں
دھرتی کانپنے انبر کانپے
کانپیں چاند ستارے سائیں
لوہے کو پگھلانے والے
آپ بھی ہیں انگیارے سائیں
گولی لاٹھی ، پیہ ، ساسن
ان کے آگے ہا رے سائیں
کل تک تھے یہ سب بیچارے پر
آج نہیں بیچارے سائیں
تو نے تو یہ بات سمجھ لی
اوروں کو سمجھا رے سائیں !
ان کی محنت ہم نے لوٹی
ہم سب ہیں ہنڈارے سائیں
ان کی قسمت کٹیا کھولی
ہم نے محل اسارے سائیں
ان کا حصہ آدھی روٹی
اپنے پیٹ اپھارے سائیں
ان کے گھر اندھیارا ٹوٹا
سورج چاند ہمارے سائیں
اندھیاروں کا جاد و ٹوٹے
اب وہ جوت جگارے سائیں
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا رے سائیں
تو بھی دیکھے میں بھی دیکھوں
محنت کے نظارے سائیں
آج بھی کتنی خالی دھرتی
کتنے کھیت کنوارے سائیں

—– ٭—–

یہ دھرتی کا پوٹا چیریں
کوئلہ ۔ لوہا بھر بھر لائیں
خون پسینے فرق نہ سمجھیں
بھاری بھر کم ملیں چلائیں
چونا پتھر مٹی گارا
یہی سنبھالیں یہی ا ٹھائیں
پھر بھی ہے دل میں یہی دبدھا
کل کیا پہنیں کل کیا کھائیں
پیٹ پہ پتھر باندھ کے سوئیں
فٹ پاتھوں پر عمر بتائیں

—– ٭ —–

اندھیاروں کاسینہ چیرے
اب وہ جوت جگانا ہوگا
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا نا ہوگا
جس کی محنت اس کا حاصل
اب ہی بھید بتا نا ہو گا
اب تو اور ہی شام سویرا
اب تو اور زمانہ ہوگا
اب ان کو سمجھا نا کیسا
اپنے کو سمجھا نا ہو گا
پہلے تھے ارشاد ہمارے
اب ان کافر ما نا ہو گا
ان کے بھاگ جگا کر سائیں
اپنا بھاگ جگا نا ہو گا

ابن انشاء

جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل : ابن انشاء

جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل : ابن انشاء

دل بہلنے کی نہیں کوئی سبیل
جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل
ڈالتا ہوں اپنے ماضی پر نگاہ
گاہے گاہے کھنچتا ہوں سرد آہ
کس طرح اب دل کو رہ پر لاؤںمیں
کس بہانے سے اسے بھولاؤں میں
سب کو محو خواب راحت چھوڑ کے
نیند آتی ہے مرے شبستاں میں مرے
مجھ کو سوتے دیکھ کر آتا ہے کوئی
میرے سینے سے چمٹ جاتا ہے کوئی
دیکھتا ہوں آکےا کثر ہوش میں
کوئی ظالم ہے مری آغوش میں
خود کو مگر تنہا ہی پاتا ہوں میں
پھر گھڑی بھر بعد سوجاتا ہوں میں
پھر کسی کو دیکھتا ہوں خواب میں
اس دفعہ پہچان لیتا ہوں تمہیں
بھاگ جاتے ہو قریب صبحدم
چھوڑ دیتے ہو رہین رنج و غم
مجھ کو تم سے عشق تھا مدت ہوئی
ان دنوں تم کو بھی الفت مجھ سے تھی
کم نگاہیا قتصائے سال و سن
کیا ہوئی تھی بات جانے ایک دن
بندا پنا آنا جانا ہو گیا
اور اس پر اک زمانا ہو گیا
تم غلط سمجھے ہوا میں بد گماں
بات چھوٹی تھی مگر پہنچی کہاں
جلد ہی میں تو پیشماں ہوگیا
تم کو بھیا حساس کچھ ایسا ہوا
نشہ پندار میں لیکن تھے مست
تھی گراں دونو پہ تسلیم شکست
ہجر کے صحرا کو طے کرنا پڑا
مل گیا تھا رہنما امید سا
ہے مری جرات کی اصل اب بھی یہی
دل یہ کہتا ہے کہ دیکھیں تو سہی
جس میں اترا تھا ہمارا کارواں
اب بھی ممکن ہے وہ خالی ہو مکاں
آج تک دیتے رہے دل کو فریب
اب نہیں ممکن ذراتاب شکیب
آؤ میرے دیدہ تر میں رہو
آؤ اس اجڑے ہوئے گھر میں رہو
حوصلے سے میں پہل کرتا تو ہوں
دل میں اتناسوچ کر ڈرتا بھی ہوں
تم نہ ٹھکرا دو مری دعوت کہیں
میں یہ سمجھوں گا اگر کہہ دو نہیں
گردش ایام کو لوٹالیا
میں نے جو کھو دیا تھا پا لیا
• — — — — — — — — — — — •
ابن انشاء

جھوٹی سچی مجبوری پر لال دلھن نے کھینچا ہات

جھوٹی سچی مجبوری پر لال دلھن نے کھینچا ہات
باجے گاجے بجتے رہے پر لوٹ گئی ساجنکی برات
سکھیوں نے اتنا بھی نہ دیکھا ٹوٹ گئے کیا کیاسنجوگ
ڈھولک پر چاندی کے چوڑے چھنکاتے میں کاٹی رات
بھاری پردوں کے پیچھے کی چھایا کو معلوم نہ تھا
آج سے بیگانہ ہوتا ہے کس کا دامن کس کا ہات
میلے آنسو ڈھلکے جھومر ،اجلی چادرسونی سیج
اوشا دیوی یوں دیکھ رہی ہو کس کی محبت کی سوغات
چاند کے اجیالے پی نہ جاؤ موم کی یہ شمعیں نہ بجھاؤ
باہر کے سورج نہ بلا ؤ جلنے دو تنکے کے ا لاؤ
کس مہندی کا رنگ ہوا یہ کس سہرے کے پھول ہوئے
بوجھنے والے بوجھ ہی لیں گے لاکھ نہ بولو لاکھ چھپاؤ
ہم کو کیا معلوم نہیں سمجھوں کو ناحق سمجھاؤ
جیسے کل کی بات ہو جانی پیت کے سب پیمان ہوئے
پردے اڑیں دریچے کانپیں پروا کے جھونکے آئیں جائیں
سانجھ سمے کے شوکتے جنگل کس کو پکاریں کس کو بلائیں
درد کی آنچ جگر کو جلائے پلکیں نہ جھپکیں نیند نہ آئے
روگ کے کیڑے سینہ چاٹیں زخموں کی دیواریں سہلائیں
یاد کے دوار کو تیغہ کر دو جگہ جگہ پہرے بٹھلا دو
اجنبی بنجاروں سے کہہ دو پیت نگر کی راہ نہ آئیں
انشا جی اک بات جو پوچھیں تم نے کسی سے عشق کیا ہے
ہم بھی تو سمجھیں ہم بھی تو جانیں عشق میں ایسا کیا ہوتا ہے
مفت میں جان گنوا لیتے ہیں ہم نے تو ایساسن رکھا ہے
نام و مقدم ہمیں بتلائیں آپ نہ اپنے جی کو دکھائیں
ہم ابھی مشکیں باندھ کے لائیں کون وہ ایسا ماہ لقا ہے
سانس میں پھانس جگر میں کانٹے سینہ لال گلال نہ پوچھ
اتنے دنوں کے بعد تو پیارے بیماروں کا حال نہ پوچھ
کیسے کٹے جیسے بھی کٹے اب اور بڑھے گا ملال نہ پوچھ
قرنوں اور جگنوں پر بھاری مہجوری کے سال نہ پوچھ
جن تاروں کی چھاؤں میں ہم نے دیکھے تھے وہ سکھ کے خواب
کیسے ان تاروں نے بگاڑی ا پنی ہماری چال نہ پوچھ

ابن انشاء

ہم میں آوارہ سو بو لوگو

ہم میں آوارہ سو بو لوگو
جیسے جنگل میں رنگ و بو لوگو
ساعت چند کے مسافر سے
کوئی دم اور گفتگو لوگو
تھے تمہاری طرح کبھی ہم بھی
رنگ و نکہت کی آبرو لوگو
قریۂ عاشقی ہراچہ و دل
گھر ہمارے بھی تھے کبھی لوگو
وقت ہوتا تو آرزو کرتے
جانے کس شے کی آرزو لوگو
تاب ہوتی تو جستجو کرتے
جانے کس کس کی جستجو لوگو
کوئی منزل نہیں روانا ہیں
ہم مسافر میں بے ٹھکانا ہیں

ابن انشاء

اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا

اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا​
خُود سے خُود کو مِنہا کر کے دیکھوں گا​

​وہ شعلہ ہے یا چشمہ، کُچھ بھید کُھلے​
پتھر دل میں رستہ کر کے دیکھوں گا​

​کب بچھڑا تھا، کون گھڑی تھی، یاد نہیں​
لمحہ لمحہ یکجا کر کے دیکھوں گا​

​وعدہ کر کے لوگ بُھلا کیوں دیتے ہیں​
اب کے میں بھی ایسا کر کے دیکھوں گا​

​کتنا سچا ہے وہ میری چاہت میں​
محسن خُود کو رسوا کر کے دیکھوں گا​

محسن بھوپالی

وہ جس کا نام لے لیا پہیلیوں کی اوٹ میں



وہ جس کا نام لے لیا پہیلیوں کی اوٹ میں
نظر پڑی تو چھپ گئی سہیلیوں کی اوٹ میں

رکے گی شرم سے کہاں یہ خال و خد کی روشنی
چھپے گا آفتاب کیا ہتھیلیوں کی اوٹ میں

ترے مرے ملاپ پر وہ دشمنوں کی سازشیں
وہ سانپ رینگتے ہوئے چمبیلیوں کی اوٹ میں

وہ تیرے اشتیاق کی ہزار حیلہ سازیاں
وہ میرا اضطراب یار بیلیوں کی اوٹ میں

چلو کہ ہم بجھے بجھے سے گھر کا مرثیہ کہیں
وہ چاند تو اتر گیا حویلیوں کی اوٹ میں --

Thursday, October 3, 2013

وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے

وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے
آ نہیں سکتا تو پھر یاد بھی آیا نہ کرے

ایک امید کی کھڑکی سی کھلی رہتی ہے
اپنے کمرے کا کوئی ، بلب بجھایا نہ کرے

میں مسافر ہوں کسی روز تو جانا ہے مجھے
کوئی سمجھائے اسے میری تمنا نہ کرے

روز ای میل کرے سرخ اِمج ہونٹوں کے
میں کسی اور ستارے پہ ہوں ، سوچا نہ کرے

حافظہ ایک امانت ہے کسی کی لیکن
یاد کی سرد ہو ا شام کو رویا نہ کرے

چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور
میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے

کل تک جو کر رہے تھے بڑے حوصلے کی بات

کل تک جو کر رہے تھے بڑے حوصلے کی بات
ہے ان کے لب پہ آج کٹھن مرحلے کی بات

جس کارواں کے سامنے تارے نِگوں رہے
صحرا میں اُڑ گئی ہے اُسی قافلے کی بات

آخر سرِ غرور نے سجدہ کیا اسے
یوں مختصر ہوئی ہے بڑے فاصلے کی بات

راہِ طلب میں ہم سے کوئی بھول ہو گئی
کیوں کر رہے ہیں آپ ہمارے صِلے کی بات

ہم نے تو عرض کر ہی دیا حرفِ مدعا
اب آپ ہی کریں گے کسی فیصلے کی بات

اُن کی تلاش اصل میں اپنی تلاش ہے
کس سلسلے سے جا ملی کس سلسلے کی بات ---

Tuesday, October 1, 2013

رسولِ کریم دی یاد وچ شاعری - منیر نیازی

رسولِ کریم دی یاد وچ شاعری

کیسے ہون گے گلی محلے کیہڑی طراں دیاں راہواں
اندروں گھر کیسے ہوون گے کیسیاں باہرلیاں تھانواں
رونق اوہناں ہزاراں دی تے لوکاں دیاں صداواں
دور دراز دیاں سفراں اندر ٹھہرن لئی سراواں
رات دناں وچ قافلے چلدے رُتاں دیاں ہواواں
کویں میں ایڈا پینڈا کٹ کے اوس سمے وچ جانواں
کویں میں اوہ تصویراں کھچ کے دنیا کول لیاواں
کویں میں اج دے شہراں نوں اوہ حسن دی جھلک وخاواں
شہر مبارک اوہناں دناں دے سوہنیاں دُھپاں چھانواں
جنہاں چ پھریا شام سویرے احمد دا پرچھانواں
منیر نیازی

حفاظتی بند باندھ لیجئے : ابن انشاء


ہم میں آوارہ سو بو لوگو
جیسے جنگل میں رنگ و بو لوگو
ساعت چند کے مسافر سے
کوئی دم اور گفتگو لوگوa
تھے تمہاری طرح کبھی ہم بھی
رنگ و نکہت کی آبرو لوگو
قریۂ عاشقی ہراچہ و دل
گھر ہمارے بھی تھے کبھی لوگو
وقت ہوتا تو آرزو کرتے
جانے کس شے کی آرزو لوگو
تاب ہوتی تو جستجو کرتے
جانے کس کس کی جستجو لوگو
کوئی منزل نہیں روانا ہیں
ہم مسافر میں بے ٹھکانا ہیں

ابن انشاء

چار پہر کی رات : ابن انشاء

جھوٹی سچی مجبوری پر لال دلھن نے کھینچا ہات
باجے گاجے بجتے رہے پر لوٹ گئی ساجن کی برات
سکھیوں نے اتنا بھی نہ دیکھا ٹوٹ گئے کیا کیا سنجوگ
ڈھولک پر چاندی کے چوڑے چھنکاتے میں کاٹی رات
بھاری پردوں کے پیچھے کی چھایا کو معلوم نہ تھا
آج سے بیگانہ ہوتا ہے کس کا دامن کس کا ہات
میلے آنسو ڈھلکے جھومر ،اجلی چادرسونی سیج
اوشا دیوی یوں دیکھ رہی ہو کس کی محبت کی سوغات
چاند کے اجیالے پی نہ جاؤ موم کی یہ شمعیں نہ بجھاؤ
باہر کے سورج نہ بلا ؤ جلنے دو تنکے کے ا لاؤ
کس مہندی کا رنگ ہوا یہ کس سہرے کے پھول ہوئے
بوجھنے والے بوجھ ہی لیں گے لاکھ نہ بولو لاکھ چھپاؤ
ہم کو کیا معلوم نہیں سمجھوں کو ناحق سمجھاؤ
جیسے کل کی بات ہو جانی پیت کے سب پیمان ہوئے
پردے اڑیں دریچے کانپیں پروا کے جھونکے آئیں جائیں
سانجھ سمے کے شوکتے جنگل کس کو پکاریں کس کو بلائیں
درد کی آنچ جگر کو جلائے پلکیں نہ جھپکیں نیند نہ آئے
روگ کے کیڑے سینہ چاٹیں زخموں کی دیواریں سہلائیں
یاد کے دوار کو تیغہ کر دو جگہ جگہ پہرے بٹھلا دو
اجنبی بنجاروں سے کہہ دو پیت نگر کی راہ نہ آئیں
انشا جی اک بات جو پوچھیں تم نے کسی سے عشق کیا ہے
ہم بھی تو سمجھیں ہم بھی تو جانیں عشق میں ایسا کیا ہوتا ہے
مفت میں جان گنوا لیتے ہیں ہم نے تو ایساسن رکھا ہے
نام و مقدم ہمیں بتلائیں آپ نہ اپنے جی کو دکھائیں
ہم ابھی مشکیں باندھ کے لائیں کون وہ ایسا ماہ لقا ہے
سانس میں پھانس جگر میں کانٹے سینہ لال گلال نہ پوچھ
اتنے دنوں کے بعد تو پیارے بیماروں کا حال نہ پوچھ
کیسے کٹے جیسے بھی کٹے اب اور بڑھے گا ملال نہ پوچھ
قرنوں اور جگنوں پر بھاری مہجوری کے سال نہ پوچھ
جن تاروں کی چھاؤں میں ہم نے دیکھے تھے وہ سکھ کے خواب
کیسے ان تاروں نے بگاڑی ا پنی ہماری چال نہ پوچھ

ابن انشاء

جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل : ابن انشاء

دل بہلنے کی نہیں کوئی سبیل
جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل
ڈالتا ہوں اپنے ماضی پر نگاہ
گاہے گاہے کھنچتا ہوں سرد آہ
کس طرح اب دل کو رہ پر لاؤںمیں
کس بہانے سے اسے بھولاؤں میں
سب کو محو خواب راحت چھوڑ کے
نیند آتی ہے مرے شبستاں میں مرے
مجھ کو سوتے دیکھ کر آتا ہے کوئی
میرے سینے سے چمٹ جاتا ہے کوئی
دیکھتا ہوں آکےا کثر ہوش میں
کوئی ظالم ہے مری آغوش میں
خود کو مگر تنہا ہی پاتا ہوں میں
پھر گھڑی بھر بعد سوجاتا ہوں میں
پھر کسی کو دیکھتا ہوں خواب میں
اس دفعہ پہچان لیتا ہوں تمہیں
بھاگ جاتے ہو قریب صبحدم
چھوڑ دیتے ہو رہین رنج و غم
مجھ کو تم سے عشق تھا مدت ہوئی
ان دنوں تم کو بھی الفت مجھ سے تھی
کم نگاہیا قتصائے سال و سن
کیا ہوئی تھی بات جانے ایک دن
بندا پنا آنا جانا ہو گیا
اور اس پر اک زمانا ہو گیا
تم غلط سمجھے ہوا میں بد گماں
بات چھوٹی تھی مگر پہنچی کہاں
جلد ہی میں تو پیشماں ہوگیا
تم کو بھیا حساس کچھ ایسا ہوا
نشہ پندار میں لیکن تھے مست
تھی گراں دونو پہ تسلیم شکست
ہجر کے صحرا کو طے کرنا پڑا
مل گیا تھا رہنما امید سا
ہے مری جرات کی اصل اب بھی یہی
دل یہ کہتا ہے کہ دیکھیں تو سہی
جس میں اترا تھا ہمارا کارواں
اب بھی ممکن ہے وہ خالی ہو مکاں
آج تک دیتے رہے دل کو فریب
اب نہیں ممکن ذراتاب شکیب
آؤ میرے دیدہ تر میں رہو
آؤ اس اجڑے ہوئے گھر میں رہو
حوصلے سے میں پہل کرتا تو ہوں
دل میں اتناسوچ کر ڈرتا بھی ہوں
تم نہ ٹھکرا دو مری دعوت کہیں
میں یہ سمجھوں گا اگر کہہ دو نہیں
گردش ایام کو لوٹالیا
میں نے جو کھو دیا تھا پا لیا
• — — — — — — — — — — — — •
ابن انشاء

جس کی محنت اس کا حاصل : ابن انشاء

سکھ کے سپنے دیکھتے جاگے
جگ جگ کے دکھیارے سائیں
کھلتا ہے محنت کا پرچم
سنتے ہو جیکارے سائیں
دھرتی کانپنے انبر کانپے
کانپیں چاند ستارے سائیں
لوہے کو پگھلانے والے
آپ بھی ہیں انگیارے سائیں
گولی لاٹھی ، پیہ ، ساسن
ان کے آگے ہا رے سائیں
کل تک تھے یہ سب بیچارے پر
آج نہیں بیچارے سائیں
تو نے تو یہ بات سمجھ لی
اوروں کو سمجھا رے سائیں !
ان کی محنت ہم نے لوٹی
ہم سب ہیں ہنڈارے سائیں
ان کی قسمت کٹیا کھولی
ہم نے محل اسارے سائیں
ان کا حصہ آدھی روٹی
اپنے پیٹ اپھارے سائیں
ان کے گھر اندھیارا ٹوٹا
سورج چاند ہمارے سائیں
اندھیاروں کا جاد و ٹوٹے
اب وہ جوت جگارے سائیں
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا رے سائیں
تو بھی دیکھے میں بھی دیکھوں
محنت کے نظارے سائیں
آج بھی کتنی خالی دھرتی
کتنے کھیت کنوارے سائیں

—– ٭—–

یہ دھرتی کا پوٹا چیریں
کوئلہ ۔ لوہا بھر بھر لائیں
خون پسینے فرق نہ سمجھیں
بھاری بھر کم ملیں چلائیں
چونا پتھر مٹی گارا
یہی سنبھالیں یہی ا ٹھائیں
پھر بھی ہے دل میں یہی دبدھا
کل کیا پہنیں کل کیا کھائیں
پیٹ پہ پتھر باندھ کے سوئیں
فٹ پاتھوں پر عمر بتائیں

—– ٭ —–

اندھیاروں کاسینہ چیرے
اب وہ جوت جگانا ہوگا
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا نا ہوگا
جس کی محنت اس کا حاصل
اب ہی بھید بتا نا ہو گا
اب تو اور ہی شام سویرا
اب تو اور زمانہ ہوگا
اب ان کو سمجھا نا کیسا
اپنے کو سمجھا نا ہو گا
پہلے تھے ارشاد ہمارے
اب ان کافر ما نا ہو گا
ان کے بھاگ جگا کر سائیں
اپنا بھاگ جگا نا ہو گا

• — — — — — — — — — — — — •
ابن انشاء

جپوست : ابن انشاء

جب درد کا دل پر پہرا ہو
اور جب یاد کا گھاؤ گہرا ہو
آ جائے گا آرام
جپوست نام
جپوست نام
یہ بات تو ظاہر ہے بھائی
ہے عشق کا حاصل رسوائی
پر سوچو کیوں ا نجام
جپوست نام
جپوست نام
یہ عمر کسی پر مرنے کی
کچھ بیت گئی کچھ بیتے گی
وہ پکی ہے تم خام
جپوست نام
جپوست نام
جب عشق کا درد تم بھرتے ہو
کیوں ہجر کے شکوے کرتے ہو
یہ عشق کا ہے انعام
جپوست نام
جپوست نام
سب اول اول گھبراتے ہیں
سبا خر آخر لے آتے
اس کافر پر اسلام
جپوست نام
ٍ جپوست نام
اب چھوڑ کے بیٹھو چپکے سے
سب جھگڑے دین اور دنیا کے
آتی ہے وہ خوش اندام
جپوست نام
جپوست نام
جہاں میر سفر ،وزیر بھی ہے
اس بھیڑ میں ایک فقیر بھی ہے
اور اس کا ہے یہ کلام
جپوست نام
جپوست نام

ابن انشاء