Click Here

Monday, August 13, 2012

رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے













رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے

ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے

پھول ذرا کھلجانے دے صحن گلشن میں ساقی

اک پیمانہ چیز ہے کیا ، مے خانہ پی جایںگے

ان کے دیوانوں کا ہے کوچے کوچے میں چرچا

وہ اپنے دیوانوں کو کب سمجھانے آ یں گے

ساقی کو بیدار کرو ، میخانہ کیوں سونا ہے

بادل تو گھر آے ہیں ، میکش بھی آجایں گے

ان سے کہنے جاتے ہے بیتابی اپنے دل کی

وہ روداد غم سن کر دیکھیں کیا فرمایں گے

پھولو تم محفوظ رہو باد خزاں کے جھونکوں سے

اب ہم رخصت ہوتے ہیں ، اک دن پھر بھی آ یں گے

ساون کی برساتوں میں تیرا ملہاریں گانا

یہ لمحے یاد آ یں گے ، یاد آ کر تڑپا یں گے

وہ سوتے ہیں سونے دو وا ہے آغوش الفت

کہتے کہتے افسانہ ہم بھی تو سو جایں گے

باقی اک رہ جاے گا نقش ضیاء ے الفت کا

دنیا بھی مٹ جاے گی اور ہم بھی مٹ جایں گے‎ ‎...

No comments:

Post a Comment