رات کو جب تارے اپنے روشن گیت سنایں گے
ہم بھی دل کی گرمی سے دنیا کو گرمایں گے
پھول ذرا کھلجانے دے صحن گلشن میں ساقی
اک پیمانہ چیز ہے کیا ، مے خانہ پی جایںگے
ان کے دیوانوں کا ہے کوچے کوچے میں چرچا
وہ اپنے دیوانوں کو کب سمجھانے آ یں گے
ساقی کو بیدار کرو ، میخانہ کیوں سونا ہے
بادل تو گھر آے ہیں ، میکش بھی آجایں گے
ان سے کہنے جاتے ہے بیتابی اپنے دل کی
وہ روداد غم سن کر دیکھیں کیا فرمایں گے
پھولو تم محفوظ رہو باد خزاں کے جھونکوں سے
اب ہم رخصت ہوتے ہیں ، اک دن پھر بھی آ یں گے
ساون کی برساتوں میں تیرا ملہاریں گانا
یہ لمحے یاد آ یں گے ، یاد آ کر تڑپا یں گے
وہ سوتے ہیں سونے دو وا ہے آغوش الفت
کہتے کہتے افسانہ ہم بھی تو سو جایں گے
باقی اک رہ جاے گا نقش ضیاء ے الفت کا
دنیا بھی مٹ جاے گی اور ہم بھی مٹ جایں گے ...


No comments:
Post a Comment