بھلا یہ چاند ، تارے، صبح کیوں چہرہ چھپاتے ہیں؟
بتایا، رتجگوں کی ماہ و انجم نے سزا پائی
کہو، ملفوف کیونکر ہر کلی ہر گل میں ہے خوشبو؟
کہا، دھڑکن نے جیسے دل میں بسنے کی ادا پائی
سوال اٹھا، دوئی کا کرب آخر کیوں کیا پیدا؟
جواب آیا کہ جذبوں نے اسی سے انتہا پائی
کہو، کیسے جفاؤں کا یہ کالا جال ٹوٹے گا؟
کہا، اس کے اسیروں نے تو سنتے ہیں وفا پائی
کہو، کیوں کرّوفر اچھا نہیں راہِ محبت میں؟
... کہا، جو یار کے در پر جھکا اس نے انا پائی


No comments:
Post a Comment