Click Here

Monday, August 13, 2012

اب ترے رُخ پر محبت کی شفق پھولی تو کیا


اب ترے رُخ پر محبت کی شفق پھولی تو کیا

حسن بر حق ہے ، مگر جب بجھ چکا ہو جی تو کیا

جب ترا کہنا ہے ، تو تقدیر کا محکوم ہے

تُو نے نفرت کی تو کیا، تُو نےمحبت کی تو کیا

اب کہاں سے لاؤں وہ آنکھیں جولذت یاب ہوں

دستِ باراں نے مرے در پر جو دتکدی تو کیا

دھوپ کرنوں میں پرو لے جائے گی ساری نمی

رات بھر پھولوں نے دستِ شب سے شبنم پی تو کیا

اب تو سیلابوں سے جل تھل ہوگئیں آبادیاں

اب مرے کھیتوں کی لاشوں پر گھٹا برسی تو کیا

چور جس گھر میں پلیں، اُس گھر کو کیسے بخش دیں

لُوٹنے آئے ہیں ہم لوگوں کو اپنے ہی تو کیا

ہم نہیں ہوں گے تو پھر کس کام کی تحسینِ شعر

روشنی اک روز ان لفظوں سے پُھوٹے گی تو کیا

دُور کی آہٹ تو آ پہنچی ہے اب سر پر ندیم

آگہی نے مدتوں کے بعد کروٹ لی تو کیا

احمد ندیم قاسمی۔

No comments:

Post a Comment