اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اُس تارے کو ڈھونڈوں گا
تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہرکی جانب بھیجوں گا
ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا
جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اُس کو چھو کے گزرنا‘ میںبھی اُس سے لپٹوں گا
”خواب مسافر لمحوں کے ہیں‘ ساتھ کہاں تک جائیں گے“
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے‘ میں بھی اب کچھ سوچوں گا
بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوسِِ قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا
وقت کے اِک کنکر نے جس کو عکسوںمیں تقسیم کیا
... آبِ رواں میں کیسے امجد اب وہ چہرا جوڑوں گا
امجد اسلام امجد


No comments:
Post a Comment