Click Here

Monday, August 13, 2012

حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے













حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجے

کوئی زی عقل گر دیوانہ بن جائے تو کیا کیجے

تو میخانے سے بچنے کا تو کہتا ہے ارے‎ ‎زاہد

نظر ساقی کی گر پیمانہ بن جائے تو کیا کیجے

بتا سکتا ہے کوئی عہد_حاضر کا مسلماں یہ

حرم کے بیچ ہی بتخانہ بن جائے تو کیا کیجے

ادھر ہے فرض_لازم تو ادھر ساقی کی فرمائش

پس_مسجد اگر میخانہ بن جائے تو کیا کیجے

فضاے دشت بھی مجھ کو بلاتی ہے، مگر یارو

مرے اپنے ہی گھر ویرانہ بن جائے تو کیا کیجے

سنا تھا ایک دن ہی موت کا ہم پر مقرر ہے

پہ، آنا موت کا روزانہ بن جائے تو کیا کیجے

میں جس جذبے کو درجہء عقیدت تک عطا کر دوں

وہ تیری سوچ میں طفلانہ بن جائے توکیا کیجے

ہجوم_دوستاں تو ہے خوشی میں بھی، غمی میں بھی

وجود اپنا ہی گر بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے

میں اکثر سوچتا ہوں کہ کسی کے رزق کا حصہ

مرے منہ کا اگر اک دانہ بن جائے تو کیا کیجے

کسی عامل سے جب پوچھا تو وہ خاموش تھا شاہین

‎... کہ اپنا گر کوئی بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے

حافظ اقبال شاہین

No comments:

Post a Comment