Click Here

Sunday, August 12, 2012

دل ہے کہ جلتے سینے میں اک درد کا پھوڑا الہڑ سا


دل ہے کہ جلتے سینے میں اک درد کا پھوڑا الہڑ سا

نہ گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم کوئی نشتر ہو

ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں تم چڑھتی رات کے چندر ماہ

ہم جاتے ہیں تم آتے ہو پھر میلکی صورت کیونکر ہو

اب حسن کا رتبہُ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہو

چل بستی میں بنجارہ بن چل نگری میں سوداگر ہو

جس چیز سے تجھکو نسبت ہے جس چیز کی تجھکو چاہت ہے

وہ سونا ہے وہ ہیرا ہے وہ ماٹی ہو یا کنکر ہو

اب انشاء جی کو بلانا کیا اب پیار کے دیپ جلانا کیا

جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن رات برابر ہو

وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں

‎... اس سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دُکھ کا سورج سر پر ہو‎ ‎ 

No comments:

Post a Comment