Click Here

Monday, August 13, 2012

زندگی کی راہوں میں دل دکھتا ہے












زندگی کی راہوں میں دل دکھتا ہے
زندگی کی راہوں میں
زندگی بھٹکتی ہے
بچھڑتے رستوں میں کہاں
منزلیں پنپتی ہیں
اک آغوش ہے جیون
اس آغوش کا بچہ
درد کی حرارت سے
اس پگھلتا ہے
بھاپ بن کر اڑاتا ہےخود کو جوڑنے کے لیے
سرحدوں کو چھو کر وہ
اس طرح پھر لوٹے گا
دنیا کے فسانوں میں
پھر سے کھو جائے گا
اک آغوش ہے جیون
اس آغوش کا بچہ
اک تلاش کا ساتھی
روتے روتے ہنس دے گا
اور خود سے پوچھے گا
زندگی کی حقیقت کو
کون جان پایا ہے
جس نے اس کو کھوجا ہے
اس نے خود کو کھویا ہے
دل دکھتا ہے
آباد گھروں سے دور کہیں
جب بنجر بن میں آگ جلے
پردیس کی بوجھل راہوں میں
جب شام ڈھلے
جب رات کا قاتل سناٹا پر ہول ہواکے وہم لیے
قدموں کی چاپ ساتھ چلے
جب وقت کا نابینا جوگیبے درد رتوں کی راکھ ملے
جب شہ رگ میں محرومی کا نشترٹوٹے
جب ہاتھ سے ریشم رشتوں کا دامن چھوٹے
جب تنہائی کے پہلو سے
انجانے درد کی لے پھوٹے
جب زرد رتوں کے سائے میں پھول کھیلیں
جب زخم دہکنے والے ہیں
اور خوشیوں کے پیغام ملیں
اپنے دریدہ دامن کے جب
چاک سلیں
جب آنکھوں خود سے خواب بنیں
خوابوں میں بسے چہروں کی جب بھیڑ لگے
اس بھیڑ میں جب تم کھو جاؤ
جب حبس بڑھے تنہائی کا
جب خواب جلیں
جب آنکھ بجھے
تم یاد آؤ
دل دکھتا ہے
دل دکھتا ہے
 ‎...... دل دکھتا ہے‎



No comments:

Post a Comment