Click Here

Sunday, August 12, 2012

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے


زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے

بعض اوقات مری رُوح غضب کرتی ہے

جو تری زُلف سے اُترے ہُوں مرے آنگن میں

چاندنی ایسے اندھیروں کا اَدب کرتی ہے

اپنے انصاف کی زنجیر نہ دیکھو کہ یہاں

مُفلسی ذہن کی فریاد بھی کب‎ ‎کرتی ہے؟

صحنِ گُلشن میں ہوائوں کی صَداغور سے سُن

ہر کلی ماتمِ صَدجشنِ طرب کرتی ہے

صرف دن ڈھلنے پہ موقوف نہیں ہے محسن

زندگی زُلف کے سائے میں بھی شب کرتی ہے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment