Click Here

Monday, August 13, 2012

اے چاند، میری چاہت پھر امتحان مانگے











اے چاند، میری چاہت پھر امتحان مانگے

پھر دل کا چین مانگے ، پھر اطمینان‎ ‎مانگے

کیا ہو گیا ہے میرے بے اختیار دل کو

تیرا خیال ، ہر دم تیرا گمان مانگے

اندر کی چوٹ ہے یہ ، تجھ کو نظر نہ آئے

تو اور زخم دے گر تجھ کو نشان مانگے

کس نے کہا کہ مجھ کو رہنا ہے آسماں پر

مجھ کو تو تیرے دل کا شاہی مکان مانگے

پھر وقت نہیں گذرے ، اور نیند نہیں آئے

میری بیاض مجھ سے دل کا بیان مانگے

پھر خون ِ جگر میرا آنکھوں میں امڈ آیا

اور گرتا ہوا قطرہ وصف ِ زبان مانگے

تنہائی سے نکلے تھے ، ہم پھر سے ہوئے تنہا

کیوں ہم کو کوئی محفل نہ شادمان مانگے

پل پل کا میرا مرنا کیا کام تیرے آوے

مرتا ہوں کبھی مجھ سے تو میری جان مانگے

جو مجھ پہ گذرتی ہے ، تجھ پر نہ کبھی گذرے

وہ تجھ کو ملے جو بھی تیری زبان مانگے

اچھا ہی ہوا پیارے! تو جلد ہوا رخصت

ڈر تھا کہ آنسوﺅں کا دل ارمغان مانگے

دل اب بھی یہی چاہے کہ ہجر نہ ہو‎ ‎واقع

اک رابطہ تیرے میرے درمیان مانگے

تو دل کا بہت پیارا، کم گو ہے مگر، عامر

‎... کہتا نہیں جو تیرا دل ِ بے زبان مانگے‎ 

No comments:

Post a Comment