میں بھٹک کے آ گیا بزم میں ، مجھے ضبط ہی نہ سکھا ئے جا
نہ سوال کر مرے چارہ گر، میں پیئے جائو ں تو پلائے جا
یہ نگر حصار ہے ذات کا، یہاں ہر قدم پہ ہے دائرہ
یا بنا دے سانس کا راستہ، یا دیوارِ جاں کو گرائے جا
کبھی ریت اور رواج پر، کبھی دیں دھرم کے نام پر
سبھی خواب سولی چڑھا دیے، جو بچے ہیں چند سجائے جا
مرے راستے کی دیوار ہے ، مرے خاندان کی لاج بس
مرے خون میں ہیں بغاوتیں مجھے حوصلہ نہ دلائے جا
بڑی دھوپ ہے ترے دیس میں، کوئی زلف ہے نہ آسیب ہے
مری جلتی بلتی زمین پر ، دو بوند حسنگرائے جا
میری بدنصیبی کدھر چلی، مرے پاس آ ، مرے ساتھ آ
مجھے آگ آگ تو کر دیا، مری راکھ بھی تو اڑائے جا
تری زندگی میں آسودگی، تجھے شاعروں سے غرض ہے کیا
... یہ جہاں سے روٹھ کے بیٹھے ہیں، تو قبائے جاں کو بچائے جا

No comments:
Post a Comment