بھنور کی گود میں جیسے کنارہ ساتھ رہتا ہے
کچھ ایسے ہی تمہارا اور میرا ساتھ رہتا ہے
محبت ہو کہ نفرت ہو اسی سے مشورہ ہو گا
مری ہر کیفیت میں استخارہ ساتھ رہتا ہے
سفر میں عین ممکن ہے میں خود چھوڑ دوں لیکن
دعائیں کرنے والوں کا سہارا ساتھ رہتا ہے
مرے مولا نے مجھ کو چاہتوں کی سلطنت دے دی
مگر پہلی محبت کا خسارہ ساتھ رہتا ہے
اگر سید مرے لب پر محبت ہی محبت ہے
... تو پھر یہ کس لئے نفرت کا دھارا ساتھ رہتا ہے

No comments:
Post a Comment