Click Here

Monday, August 13, 2012

تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے











تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے

شجر پہ پات تھے جتنے ، وہ زرد ہونے لگے

وہی جو کھینچ کے لائے تھے کشتیوں سے ہمیں

بھنور کے بیچ وہ ناؤ ہیں اب ڈبونے لگے

کٹے ہیں جن کے بھی رشتے، کہ تھے جو جزوِ بدن

سکوں کی نیند بھلا، وہ کہاںہیں سونے لگے

ہیں جتنے دل بھی غرض کی تپش سے بنجر ہیں

یہ ہم کہاں ہیں محبت کے بیج بونے لگے

یہ واقعہ ہے کہ وہ حبسِ دم سے ہو آزاد

بحالِ کرب کوئی، جب بھی کھُل کے رونے لگے

ملے جو شاہ بھی ، تقلیلِ رزقِ خلق سے وُہ

رگوں میں جبر کے نشتر نئے چبھونے لگے

ترے یہ حرف کہ جگنو ہیں ، ا شک ہیں ماجد

ہیں سانس سانس میں، کیا کیا گہر پرونے لگے‎ ‎...

No comments:

Post a Comment