نگاہ کرم جو ان کی عطا ہو کبھی ہم کو
تو برستی آنکھون کا سمندر بھی کچھ کم ہو
ہون دور سارے اپنے شکوے گلے کبھی
انداز جو ان کا ذرا بھی مدھم ہو
عطا خدا کر دے ہم کو وہ سارے
دفن ان کے سینے میں جتنے غم ہوں
دعا اپنے خدا سے ہم یہی مانگتے ہیں
آنکھیں کبھی نہ ان کی آنسووں سے نم ہوں
بن سوچے جل پڑیں گے ہر راہ پر ہم
جو ساتھ قدم میرے ان کا بھی قدم ہو
اقرار ہم کریں اپنی چاہتوں کا
کہہ دیں گے ہم ان کو تمہی میرے صنم ہو
تھامے جو ہاتھ میرا وہ زندگی کے سفر میں
کبھی موت بھی جدا نہ کر سکے گی ہم کو
مہکا دیتا ہے جو خوشبو سے میرے چمن کو
--- وہ پھول اس جہاں کا صرف ایک تم ہو


No comments:
Post a Comment