محصور تلاطم آج بھی ہو
گو تم نے کنارے ڈھونڈ لیے
طوفان سے سمبھلے ہم بھی نہیں
کہنے کو کنارے ڈھونڈ لیے
خاموش سے ہم تم مہر بہ لب
جگ بیت گئے ٹک بات کئے
سنو کھیل ادھورا چھوڑتے ہیں
بنا چال چلے بنا مات گنے
جو بھاگتے بھاگتے تھک جائیں
وہ سائے رک بھی سکتے ہیں
چلو توڑو قسم اقرار کریں
--- ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں


No comments:
Post a Comment