Click Here

Tuesday, August 14, 2012

ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں










محصور تلاطم آج بھی ہو

گو تم نے کنارے ڈھونڈ لیے

طوفان سے سمبھلے ہم بھی نہیں

کہنے کو کنارے ڈھونڈ لیے

خاموش سے ہم تم مہر بہ لب

جگ بیت گئے ٹک بات کئے

سنو کھیل ادھورا چھوڑتے ہیں

بنا چال چلے بنا مات گنے

جو بھاگتے بھاگتے تھک جائیں

وہ سائے رک بھی سکتے ہیں

چلو توڑو قسم اقرار کریں

‎ ‎--- ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں‎  

No comments:

Post a Comment