اک کماں اور کوئی تیر بنا دے آ کر
اے مصوّر ! تو یہ تصویر بنا دے آ کر
مَیں نے پھُولوں سے بھرا دیکھا ہے دامن اپنا
کوئی خوشبو کی سی تعبیر بنادے آ کر
اور اک خواب میں گھولے ہوئے لاکھوں رنگ ہوں
مری آنکھوں کی یہ جاگیر بنا دے آ کر
مری پلکوں سے لرزتا ہوا سایہچُن لے
بھیگا بھیگا سا کوئی نیر بنا دے آ کر
جا کے فرقت کو بڑھانے سے تو بہتر ہے یہی
وَصل کو آ ، مری تقدیر بنا دے آ کر
اس کا انجام جو ہونا ہے وہی ہونے دے
ریت پر بھی کوئی تحریر بنا دے آ کر
آسمانوں کے کلیجے میں اتر جائیں گی
تو دعاؤں میں جو تاثیر بنا دے آ کر

No comments:
Post a Comment