بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
جاتے ہوئے لمحوں کو صدائیں نہیں دیتے
مانا یہی فطرت ہے مگر اس کوبدل دو
بدلے میں وفاؤں کے جفائیں نہیںدیتے
گر پھول نہیں دیتے تو کاٹتے بھی تو مت دو
مُسکان نہ دینی ہو تو آہیں نہیں دیتے
تم نے جو کیا، اچھا کیا، ہاں یہ گلا ہے
منزل نہ ہو جس کی تو وہ راہیں نہیں دیتے
یہ بار کہیں خود ہی اُٹھانا نہ پڑے کل
... اوروں کو بچھڑنے کی دعائیں نہیں دیتے


No comments:
Post a Comment