Click Here

Monday, August 13, 2012

بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے

















بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے

جاتے ہوئے لمحوں کو صدائیں نہیں دیتے

مانا یہی فطرت ہے مگر اس کوبدل دو

بدلے میں وفاؤں کے جفائیں نہیںدیتے

گر پھول نہیں دیتے تو کاٹتے بھی تو مت دو

مُسکان نہ دینی ہو تو آہیں نہیں دیتے

تم نے جو کیا، اچھا کیا، ہاں یہ گلا ہے

منزل نہ ہو جس کی تو وہ راہیں نہیں دیتے

یہ بار کہیں خود ہی اُٹھانا نہ پڑے کل

‎... اوروں کو بچھڑنے کی دعائیں نہیں دیتے‎ 

No comments:

Post a Comment