Click Here

Sunday, August 12, 2012

کہیں پر جاتا جاتا رہ گیا ہوں


فسانہ میرا دمِ گفتگو نہیں آیا

بلا جواز ہی تو روبرو نہیں آیا

تجھے تو علم بھی تھا میری ناتوانی کا

پکارتا رہا میں اور تو نہیں آیا

غزل سے کیوں مجھے تیری مہک سی آتی ہے

مرا قلم ترا رخسار چھو نہیں آیا

بڑے جتن سے، محبت سے خط لکھا اس کو

جواب آیا مگر ہوبہو نہیں آیا

اسے یہ چاہئے اپنے خلاف جنگ کرے

کسی محاذ سے جو سرخرو نہیں آیا

میں شاہکار تراشوں تو معجزہ ٹھہرے

‎... یہ زعم دستِ ہنر میں کبھی نہیں آیا

No comments:

Post a Comment