Click Here

Sunday, August 12, 2012

کہیں پر جاتا جاتا رہ گیا ہوں


کہیں پر جاتا جاتا رہ گیا ہوں
میں اپنے پاس بیٹھا رہ گیا ہوں

مجھے اپنا کے ٹھکرایا سبھی نے
میں تیرا تھا میں تیرا رہ گیا ہوں

کوئی بھی تو نہیں جو بات سمجھے
بھری محفل میں تنہا رہ گیا ہوں

تجھے کیا اب بھی اندازہ نہیں ہے؟
کہ اک میں ہی تو تیرا رہ گیا ہوں

بجھاوؐ کی کوئی صورت نہیں تھی
الاوؐ سا بھڑکتا رہ گیا ہوں

میں گو اُجڑا ہوں لیکن خوش بہت ہوں
کئی لوگوں سے اچھـا رہ گیا ہوں

وہ بادل ہوں جو صحرا تک نہ پہنچا
میں دریا پر برستا رہ گیا ہوں

دمِ صبحِ ازل سے آج تک میں
تماشا تھا تماشا رہ گیا ہوں

تری آنکھوں سے اوجھل اس طرح ہوں
تری آنکھوں کا پردہ رہ گیا ہوں

ہر اک چہرے میں تھا چہرہ تمہارا
ہر اک چہرے کو تکتا رہ گیا ہوں

حقہقت میں میں جیسا بھی ہوں چھوڑو
جو تو سمجھے میں ویسا رہ گیا ہوں

کوئی بھی تو نہیں جو بات سمجھے
بھری محفل میں تنہا رہ گیا ہوں

تو بن کر آہ سینے سے اُٹھا ہے
میں دل بن کر مچلتا رہ گیا ہوں

وہ میرے سامنے ہر راہ میں تھا
میں راہوں کو بدلتا رہ گیا ہوں

سنا تھا تیرے آنے کا لیکن
تِری راہوں میں بیٹھا رہ گیا ہوں

اگر سوچو تو شاید مل بھی جاوؐں
اگر دیکھو تو دھوکا رہ گیا ہوں

ہوں میں بھی پھول لیکن وائے قسمت
کسی کانٹے پہ اٹکا رہ گیا ہوں

مقدر کی ستم آرائی کا سُن
میں راجہ تھا رعایا رہ گیا ہوں

نہ میں سمجھا کہ وہ کیا بن چکا ہے
نہ وہ سمجھا کہ میں کیا رہ گیا ہوں

وہ دائرے لگا تا جا رہا ہے
میں نقطے میں سمٹتا رہ گیا ہوں

میں آبادی کا راہیں بھول بیٹھا
کسی جنگل کا رستہ رہ گیا ہوں

میں پھرتا ہوں خلاوں میں بھٹکتا
میں بن کے اک سیـارہ رہ گیا ہوں

تو جینے کی سند ہے۔جانتا ہوں
میں جینے کا حوالہ رہ گیا ہوں

جو پوچھو یادگارِ محفلِ شب
میں ۔ اک ٹوٹا پیالہ رہ گیا ہوں

وہ جو میرا نہ ہو پایا اسے بھی
میں اپنا کہتا کہتا رہ گیا ہوں

نقوشِ گردشِ دوراں تو دیکھو
میں کیسا تھا میں کیسا رہ گیا ہوں

ہو کیسے میرے نقصاں کی تلافی
میں جو اک خالی کاسہ رہ گیا ہوں

میں جو دنیا کو دنیا جانتا تھا
میں اب خود بن کے دُنیا رہ گیا ہوں

میانِ شب میں اس سنساں شہر میں
بھٹکتا اک صدا سا رہ گیا ہوں‎ ‎.....

No comments:

Post a Comment