تنہائی شب میں ہے حزیں کیا
انجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا
یہ رفعت آسمان خاموش
خوابیدہ زمیں ، جہان خاموش
یہ چاند ، یہ دشت و در ، یہ کہسار
فطرت ہے تمام نسترن زار
موتی خوش رنگ ، پیارے پیارے
یعنی ترے آنسوئوں کے تارے
کس شے کی تجھے ہوس ہے اے دل
قدرت تری ہم نفس ہے اے دل
علامہ محمد اقبال

No comments:
Post a Comment