Click Here

Tuesday, August 14, 2012

جب اس کے رخ پہ حیا کا غبار پھیلا تھا



جب اس کے رخ پہ حیا کا غبار پھیلا تھا

تو میرے دل میں وفا کا غبار پھیلا تھا

حریمِ دل میں کسی کو جگہ نہ مل پائی

نظر میں تیری ادا کا غبار پھیلا تھا

نہ دیکھ پائے ہم اک دوسرے کے چہرے کو

ہمارے گرد انا کا غبار پھیلا تھا

بھٹک کے لوگ چلے آئے دور منزل سے

کہ راستوں میں بلا کا غبار پھیلا تھا

جہاں پہ آج ہے خاموشیوں کا راج وہاں

کبھی کسی کی صدا کا غبار پھیلا تھا

جہاں پہ ناز تھا لوگوں کو اپنی عظمت پر

وہاں بھی تیری عطا کا غبار پھیلا تھا

فصیح دل میں تمنا تھی تیری الفت کی

 ‎--- لبوں پہ حرفِ دعا کا غبار پھیلا تھا‎ 

No comments:

Post a Comment