Click Here

Monday, August 13, 2012

عطائے حسن تھی ، قیس اک جھلک میں شوخ غزل

















ردیف ، قافیہ ، بندش ، خیال ، لفظ گری
وہ حور ، زینہ اُترتے ہوئے سکھانے لگی

صحیفہ حسن کا ، اِس شان سے ہُوا نازل
خدا کی شان میں ، ہر ''یاد آیہ'' میں نے پڑھی

کسی کے شیریں لبوں سے اُدھار لیتے ہیں
مٹھاس ، شہد ، رَطب ، چینی ، قند ، مصری ڈلی

کسی کے ساتھ نہاتے ہیں تیز بارش میں
لباس ، گجرے ، اُفق ، آنکھ ، زلف ، ہونٹ ، ہنسی

کسی کا بھیگا بدن ، گل کھلاتا ہے اکثر
گلاب ، رانی ، کنول ، یاسمین ، چمپا کلی

کسی کو چلتا ہُوا دیکھ لیں تو چلتے بنیں
غزال ، مورنی ، موجیں ، نجم ، زمانہ ، گھڑی

کسی کی مدھ بھری آنکھوں کے آگے کچھ بھی نہیں
تھکن ، شراب ، دوا ، غم ، خمارِ نیم شبی

''بشرطِ فال'' کسی خال پر میں واروں گا
چمن ، پہاڑ ، دَمن ، دشت ، جھیل ، خشکی ، تری

نگاہیں چار ہوئیں ، وقت ہوش کھو بیٹھا
صدی ، دہائی ، برس ، ماہ ، روز ، آج ، ابھی

عطائے حسن تھی ، قیس اک جھلک میں شوخ غزل
... بیاض ہوتی مکمل ، مگر وہ پھر نہ ملی 

No comments:

Post a Comment