Click Here

Monday, August 13, 2012

یہ سال بھی اداس رہا روٹھ کر گیا


یہ سال بھی اداس رہا روٹھ کر گیا

تجھ سے ملے بغیر دسمبر گذر گیا

عُمرِ رَواں خزاں کی ہَوا سے بھی تیز تھی

ہر لمحہ برگ زرد کی صورت بکھر گیا

کب سے گِھرا ہُوا ہُوں بگولوں کے درمیاں

صحرا بھی میرے گھر کے دروبام پر گیا

دل میں چٹختے چٹختے وہموں کے بوجھ سے

وہ خوف تھا کہ رات مَیں سوتےمیں ڈر گیا

جو بات معتبر تھی وہ سر سے گزر گئی

جو حرف سرسری تھا وہ دل میں اُتر گیا

ہم عکسِ خونِ دل ہی لُٹاتے پھرے مگر

وہ شخص آنسوؤں کی دھنک میں نکھر گیا

محسن یہ رنگ رُوپ یہ رونق بجا مگر

میں زندہ کیا رہوں کہ مِرا جی تو بھر گیا

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment