Click Here

Tuesday, August 14, 2012

کب تک ساحل پہ یونہی کھڑے رہو گے














کب تک ساحل پہ یونہی کھڑے رہو گے

سمندر کی موجوں سے کب تک تم ڈرو گے

زندگی کی صبح کبھی دیکھی ہے تم نے کیا

یا یوں ہی منہ چھپائے در در تم پھرو گے

زندگی میں تنہائیاں تڑپائیں گی تو بہت

پر کب تک ویرانیوں میں یوں بھٹکتے پھرو گے

اب اس سیاہ تاریک چاردر کو تار تار کرڈالو

یا اس دہشت ویراں میں خون جلاتے پھرو گے

میرے نزدیک تو مایوسی کفر ہے شاہد

‎ ‎--- یا اب بھی اس حقیقت سے انکار کرتے پھرو گے‎ 

No comments:

Post a Comment