Click Here

Tuesday, August 14, 2012

ہماری روح گھائل ہو گئی تھی












ہمارے دل کی قائل ہو گئی تھی

اداسی کتنی مائل ہو گئی تھی

لگا جیسے سمندر آ پڑے ہیں

ذرا سی بات حائل ہو گئی تھی

وہ جب سانسوں میں تیری خوشبوئیں تھیں

ہوا اس رات سائل ہو گئی تھی

قدم بجنے لگے تھے گھنگھروئوں سے

زمیں پائوں میں پائل ہو گئی تھی

اسے دکھ میں ذرا دیکھا تھا فرحت

... ہماری روح گھائل ہو گئی تھی

فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment