Click Here

Thursday, October 3, 2013

کل تک جو کر رہے تھے بڑے حوصلے کی بات

کل تک جو کر رہے تھے بڑے حوصلے کی بات
ہے ان کے لب پہ آج کٹھن مرحلے کی بات

جس کارواں کے سامنے تارے نِگوں رہے
صحرا میں اُڑ گئی ہے اُسی قافلے کی بات

آخر سرِ غرور نے سجدہ کیا اسے
یوں مختصر ہوئی ہے بڑے فاصلے کی بات

راہِ طلب میں ہم سے کوئی بھول ہو گئی
کیوں کر رہے ہیں آپ ہمارے صِلے کی بات

ہم نے تو عرض کر ہی دیا حرفِ مدعا
اب آپ ہی کریں گے کسی فیصلے کی بات

اُن کی تلاش اصل میں اپنی تلاش ہے
کس سلسلے سے جا ملی کس سلسلے کی بات ---

Wednesday, October 2, 2013

Khizaan Raseeda Chaman Mein Bahar Mushkil Hai ...

Khizaan Raseeda Chaman Mein Bahar Mushkil Hai

Tumharay Baad Kahin Aitabar Mushkil Hai

Kisi Se Is Liye Dushwaar Hai Khafa Hona

Mananay Aaye Ga Hum Ko Bhi Yaar Mushkil Hai

Ajeeb Raaz-e-Junoon Tha Jo Mere Dil Pe Khula

Teri Gali Mein Bhi Aa Kar Qarar Mushkil Hai

Humara Kaun Hai Ehl-e-Jafa Ki Basti Mein

Milay Ga Koi Humein Gham-Gusaar Mushkil Hai

Kahan Chalay Ho Muhabbat Khareednay "MOHSIN"

Baghair Sood Ke Milna Udhaar Mushkil Hai ...

Poet : Mohsin Naqvi
Contribute : Zahid Shah 

Udas Sham Kisi Khawab Mein Dhali To Hai ...

Udas Sham Kisi Khawab Mein Dhali To Hai,

Yehi Bohat Hai K Taza Hawa Chali To Hai,

Jo Apni Shaq Se Bahar Abhi Nahi Aai,

Nai Bahar Ki Zameen Wohi Kali To Hai,

Dhowan To Jhoot Nahi Bolta Kabhi Yaro,

Humare Shaher Mein Basti Koi Jali To Hai,

Kisi K Ishq Mein Hum Jan Se Gaye Lekin,

Humare Naam Se Rasm-e-Wafa Chali To Hai,

Hazar Band Hon Dair-O-Haram K Darwaze,

Mere Liye Mere Mehboob Ki Gali To Hai ...

Contribute : Zahid Shah
www.zahid-shah.blogspot.com/

Tuesday, October 1, 2013

رسولِ کریم دی یاد وچ شاعری - منیر نیازی

رسولِ کریم دی یاد وچ شاعری

کیسے ہون گے گلی محلے کیہڑی طراں دیاں راہواں
اندروں گھر کیسے ہوون گے کیسیاں باہرلیاں تھانواں
رونق اوہناں ہزاراں دی تے لوکاں دیاں صداواں
دور دراز دیاں سفراں اندر ٹھہرن لئی سراواں
رات دناں وچ قافلے چلدے رُتاں دیاں ہواواں
کویں میں ایڈا پینڈا کٹ کے اوس سمے وچ جانواں
کویں میں اوہ تصویراں کھچ کے دنیا کول لیاواں
کویں میں اج دے شہراں نوں اوہ حسن دی جھلک وخاواں
شہر مبارک اوہناں دناں دے سوہنیاں دُھپاں چھانواں
جنہاں چ پھریا شام سویرے احمد دا پرچھانواں
منیر نیازی

حفاظتی بند باندھ لیجئے : ابن انشاء


ہم میں آوارہ سو بو لوگو
جیسے جنگل میں رنگ و بو لوگو
ساعت چند کے مسافر سے
کوئی دم اور گفتگو لوگوa
تھے تمہاری طرح کبھی ہم بھی
رنگ و نکہت کی آبرو لوگو
قریۂ عاشقی ہراچہ و دل
گھر ہمارے بھی تھے کبھی لوگو
وقت ہوتا تو آرزو کرتے
جانے کس شے کی آرزو لوگو
تاب ہوتی تو جستجو کرتے
جانے کس کس کی جستجو لوگو
کوئی منزل نہیں روانا ہیں
ہم مسافر میں بے ٹھکانا ہیں

ابن انشاء

چار پہر کی رات : ابن انشاء

جھوٹی سچی مجبوری پر لال دلھن نے کھینچا ہات
باجے گاجے بجتے رہے پر لوٹ گئی ساجن کی برات
سکھیوں نے اتنا بھی نہ دیکھا ٹوٹ گئے کیا کیا سنجوگ
ڈھولک پر چاندی کے چوڑے چھنکاتے میں کاٹی رات
بھاری پردوں کے پیچھے کی چھایا کو معلوم نہ تھا
آج سے بیگانہ ہوتا ہے کس کا دامن کس کا ہات
میلے آنسو ڈھلکے جھومر ،اجلی چادرسونی سیج
اوشا دیوی یوں دیکھ رہی ہو کس کی محبت کی سوغات
چاند کے اجیالے پی نہ جاؤ موم کی یہ شمعیں نہ بجھاؤ
باہر کے سورج نہ بلا ؤ جلنے دو تنکے کے ا لاؤ
کس مہندی کا رنگ ہوا یہ کس سہرے کے پھول ہوئے
بوجھنے والے بوجھ ہی لیں گے لاکھ نہ بولو لاکھ چھپاؤ
ہم کو کیا معلوم نہیں سمجھوں کو ناحق سمجھاؤ
جیسے کل کی بات ہو جانی پیت کے سب پیمان ہوئے
پردے اڑیں دریچے کانپیں پروا کے جھونکے آئیں جائیں
سانجھ سمے کے شوکتے جنگل کس کو پکاریں کس کو بلائیں
درد کی آنچ جگر کو جلائے پلکیں نہ جھپکیں نیند نہ آئے
روگ کے کیڑے سینہ چاٹیں زخموں کی دیواریں سہلائیں
یاد کے دوار کو تیغہ کر دو جگہ جگہ پہرے بٹھلا دو
اجنبی بنجاروں سے کہہ دو پیت نگر کی راہ نہ آئیں
انشا جی اک بات جو پوچھیں تم نے کسی سے عشق کیا ہے
ہم بھی تو سمجھیں ہم بھی تو جانیں عشق میں ایسا کیا ہوتا ہے
مفت میں جان گنوا لیتے ہیں ہم نے تو ایساسن رکھا ہے
نام و مقدم ہمیں بتلائیں آپ نہ اپنے جی کو دکھائیں
ہم ابھی مشکیں باندھ کے لائیں کون وہ ایسا ماہ لقا ہے
سانس میں پھانس جگر میں کانٹے سینہ لال گلال نہ پوچھ
اتنے دنوں کے بعد تو پیارے بیماروں کا حال نہ پوچھ
کیسے کٹے جیسے بھی کٹے اب اور بڑھے گا ملال نہ پوچھ
قرنوں اور جگنوں پر بھاری مہجوری کے سال نہ پوچھ
جن تاروں کی چھاؤں میں ہم نے دیکھے تھے وہ سکھ کے خواب
کیسے ان تاروں نے بگاڑی ا پنی ہماری چال نہ پوچھ

ابن انشاء

جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل : ابن انشاء

دل بہلنے کی نہیں کوئی سبیل
جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل
ڈالتا ہوں اپنے ماضی پر نگاہ
گاہے گاہے کھنچتا ہوں سرد آہ
کس طرح اب دل کو رہ پر لاؤںمیں
کس بہانے سے اسے بھولاؤں میں
سب کو محو خواب راحت چھوڑ کے
نیند آتی ہے مرے شبستاں میں مرے
مجھ کو سوتے دیکھ کر آتا ہے کوئی
میرے سینے سے چمٹ جاتا ہے کوئی
دیکھتا ہوں آکےا کثر ہوش میں
کوئی ظالم ہے مری آغوش میں
خود کو مگر تنہا ہی پاتا ہوں میں
پھر گھڑی بھر بعد سوجاتا ہوں میں
پھر کسی کو دیکھتا ہوں خواب میں
اس دفعہ پہچان لیتا ہوں تمہیں
بھاگ جاتے ہو قریب صبحدم
چھوڑ دیتے ہو رہین رنج و غم
مجھ کو تم سے عشق تھا مدت ہوئی
ان دنوں تم کو بھی الفت مجھ سے تھی
کم نگاہیا قتصائے سال و سن
کیا ہوئی تھی بات جانے ایک دن
بندا پنا آنا جانا ہو گیا
اور اس پر اک زمانا ہو گیا
تم غلط سمجھے ہوا میں بد گماں
بات چھوٹی تھی مگر پہنچی کہاں
جلد ہی میں تو پیشماں ہوگیا
تم کو بھیا حساس کچھ ایسا ہوا
نشہ پندار میں لیکن تھے مست
تھی گراں دونو پہ تسلیم شکست
ہجر کے صحرا کو طے کرنا پڑا
مل گیا تھا رہنما امید سا
ہے مری جرات کی اصل اب بھی یہی
دل یہ کہتا ہے کہ دیکھیں تو سہی
جس میں اترا تھا ہمارا کارواں
اب بھی ممکن ہے وہ خالی ہو مکاں
آج تک دیتے رہے دل کو فریب
اب نہیں ممکن ذراتاب شکیب
آؤ میرے دیدہ تر میں رہو
آؤ اس اجڑے ہوئے گھر میں رہو
حوصلے سے میں پہل کرتا تو ہوں
دل میں اتناسوچ کر ڈرتا بھی ہوں
تم نہ ٹھکرا دو مری دعوت کہیں
میں یہ سمجھوں گا اگر کہہ دو نہیں
گردش ایام کو لوٹالیا
میں نے جو کھو دیا تھا پا لیا
• — — — — — — — — — — — — •
ابن انشاء

جس کی محنت اس کا حاصل : ابن انشاء

سکھ کے سپنے دیکھتے جاگے
جگ جگ کے دکھیارے سائیں
کھلتا ہے محنت کا پرچم
سنتے ہو جیکارے سائیں
دھرتی کانپنے انبر کانپے
کانپیں چاند ستارے سائیں
لوہے کو پگھلانے والے
آپ بھی ہیں انگیارے سائیں
گولی لاٹھی ، پیہ ، ساسن
ان کے آگے ہا رے سائیں
کل تک تھے یہ سب بیچارے پر
آج نہیں بیچارے سائیں
تو نے تو یہ بات سمجھ لی
اوروں کو سمجھا رے سائیں !
ان کی محنت ہم نے لوٹی
ہم سب ہیں ہنڈارے سائیں
ان کی قسمت کٹیا کھولی
ہم نے محل اسارے سائیں
ان کا حصہ آدھی روٹی
اپنے پیٹ اپھارے سائیں
ان کے گھر اندھیارا ٹوٹا
سورج چاند ہمارے سائیں
اندھیاروں کا جاد و ٹوٹے
اب وہ جوت جگارے سائیں
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا رے سائیں
تو بھی دیکھے میں بھی دیکھوں
محنت کے نظارے سائیں
آج بھی کتنی خالی دھرتی
کتنے کھیت کنوارے سائیں

—– ٭—–

یہ دھرتی کا پوٹا چیریں
کوئلہ ۔ لوہا بھر بھر لائیں
خون پسینے فرق نہ سمجھیں
بھاری بھر کم ملیں چلائیں
چونا پتھر مٹی گارا
یہی سنبھالیں یہی ا ٹھائیں
پھر بھی ہے دل میں یہی دبدھا
کل کیا پہنیں کل کیا کھائیں
پیٹ پہ پتھر باندھ کے سوئیں
فٹ پاتھوں پر عمر بتائیں

—– ٭ —–

اندھیاروں کاسینہ چیرے
اب وہ جوت جگانا ہوگا
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا نا ہوگا
جس کی محنت اس کا حاصل
اب ہی بھید بتا نا ہو گا
اب تو اور ہی شام سویرا
اب تو اور زمانہ ہوگا
اب ان کو سمجھا نا کیسا
اپنے کو سمجھا نا ہو گا
پہلے تھے ارشاد ہمارے
اب ان کافر ما نا ہو گا
ان کے بھاگ جگا کر سائیں
اپنا بھاگ جگا نا ہو گا

• — — — — — — — — — — — — •
ابن انشاء

جپوست : ابن انشاء

جب درد کا دل پر پہرا ہو
اور جب یاد کا گھاؤ گہرا ہو
آ جائے گا آرام
جپوست نام
جپوست نام
یہ بات تو ظاہر ہے بھائی
ہے عشق کا حاصل رسوائی
پر سوچو کیوں ا نجام
جپوست نام
جپوست نام
یہ عمر کسی پر مرنے کی
کچھ بیت گئی کچھ بیتے گی
وہ پکی ہے تم خام
جپوست نام
جپوست نام
جب عشق کا درد تم بھرتے ہو
کیوں ہجر کے شکوے کرتے ہو
یہ عشق کا ہے انعام
جپوست نام
جپوست نام
سب اول اول گھبراتے ہیں
سبا خر آخر لے آتے
اس کافر پر اسلام
جپوست نام
ٍ جپوست نام
اب چھوڑ کے بیٹھو چپکے سے
سب جھگڑے دین اور دنیا کے
آتی ہے وہ خوش اندام
جپوست نام
جپوست نام
جہاں میر سفر ،وزیر بھی ہے
اس بھیڑ میں ایک فقیر بھی ہے
اور اس کا ہے یہ کلام
جپوست نام
جپوست نام

ابن انشاء

جب عمر کی نقدی ختم ہوئی : ابن انشاء


اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاںا پنی جاں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب ناما دھر کا آیا کیوں
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیاج بھی دے لیں گے
ہں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں اس مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیاسنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمرا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی زالی ہے
ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ ہے
کیاسود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو اپنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا

ابن انشاء

تلانجلی : ابن انشاء

تو جو کہے تجدید محبت میں تو مجھے کچھ عار نہیں
دل ہے بکار خویش ذرا ہشیار ،ابھی تیار نہیں
صحرا جو عشق جنوں پیشہ نے دکھائے دیکھ چکا
مد و جرز کی لہریں گھٹتے بڑھتے سائے دیکھ چکا
عقل کا فرمانا ہے کہ اب اس دام حسیں سے دور ہوں
زنداں کی دیواروں سے سر پھوڑ مرا نوخیز جنوں
صحبت اول ہی میں شکست جرات تنہا دیکھ چکا

)٢(

کاوش نغمہ رنگ اثر سے عاری کی عاری ہی رہی
جلوہ گری تیری بھی نشاط روح کاساماں ہو نہ سکی
سوچ رہا ہوں کتنی تمناؤں کو لیے آیا تھا یہاں
مجھ پہ نگاہ لطف تری اب بھی ہے مگر پہلی سی کہاں
آج میں ساقی یاد ہوں تجھ کو درد تہ ساغر کے لیے
کل کی خبر ہے کس کو بھلا اتنا بھی رہے کل یانہ رہے
دھندکے بادل چھوٹ رہے ہیں ٹوٹتے جاتے ہیںافسو
سوچ رہا ہوں کیوں نہ اسی بے کیف فضا میں لوٹ چلوں
ساقی رعنا تجھ سے یہی کم آگہی کا شکوہ ہی رہا
کاوش نغمہ رنگ اثر سے عاری کی عاری ہی رہی
حیلہ گری تیری بھی نشاط روح کاساماں ہو نہ سکی
لذت و زیرو بم سے رہی محروم نوائے بربط و نے
ڈھل نہ سکے آہنگ میں خاکے آنہ سکی فریاد میں لے
کر دیکھی ہر رنگ میں تو نے سعی نشاط سوزدروں
پھر بھی اے مطرب خلوت محمل میں رہی لیلائے سکوں
کشتی آوارہ کو کسی ساحل کاسہارا مل نہ سکا
دیکھ چکا انجام تمنا ، جان تمنا تو ہی بتا
ہے یہی نشہ غایت صہباساقی رعنا تو ہی بتا
چارہ غم تھا دعوی نغمہ ،خالق نغمہ تو ہی بتا
حسن کا احساںا ٹھ نہ سکے تو عشق کاسوداچھوڑ نہ دوں
کیف بقدر ہوش نہ ہو تو ساغر صہبا پھوڑ نہ دوں
بربط و نے سے کچھ نہ بنے تو بربط ونے کو توڑ دوں
قطع جنوں میں جرم ہی کیا ہے پھر مری لیلی تو ہی بتا

ابن انشاء

تحقیق : ابن انشاء

تھوڑی کڑوی ضرور ہے بابا
اپنے غم کا مگر مداوا ہے
ذائقہ کا قصور ہے بابا
تلخ و شیریں میں فاصلہ کیا ہے
رنگ و روغن کو سال و سن کو نہ دیکھ
پیڑ گننا کہ آم کھانا ہے
عمر گزری ہے خانقاہوں میں
ایک شب یاں گزار جانا ہے
حسن مختوم خوب تھا بابا
کاش حصے میں آپ کے آسکتا
عشق معصوم کیا کہا بابا
کاش میں یہ فریب کھاسکتا
حسن کا مل عیار عشق نفیس
سب مراحل سے گزر چکا ہوں میں
دل خریدا تھا کبھی ان کا
اب فقط اتنا جانتا ہوں میں
ایک رنگین خواب تھے بابا
موجہ ہائے سراب تھے بابا
ورنہ سرحد پہ تشنہ کامی کی
مئے رنگیں ہے سادہ پانی ہے
شرط حسن و وفا اضافی ہے
قید تسکین نفس کافی ہے

ابن انشاء

پہلا سجدہ : ابن انشاء


وہ ارمانوں کی اجڑی ہوئی بستی
پھر آج آباد ہوتی جا رہی ہے
جہاں سے کاروان شوق گزرے
نہ جانے کتنی مدت ہوگئی ہے
پلا تھا صحبت اہل حرم میں
میں برسوں سے تبستاں آشنا تھا
بنی لیکن خداسے نہ بتوں سے
میں دونوں آستانوں سے خفا تھا
مگر کچھ اور ہی عالم ہے اب تو
میں اپنی حیرتوں میں کھو گیا ہوں
مجسم ہو گئے ہیں حسن و جبروت
مجھے لینا میں بہکا جا رہا ہوں
کوئی یزداں ہو بت ہو آدمی ہو
اضافی قیمتوں سے ماورا ہوں
میں پہلی بار سجدہ کر رہا ہوں

ابن انشاء