Click Here

Thursday, May 21, 2015

Stopping by Woods on a Snowy Evening by Robert Frost



Stopping by Woods on a Snowy Evening 
by Robert Frost

Whose woods these are I think I know.
His house is in the village, though;
He will not see me stopping here
To watch his woods fill up with snow.
My little horse must think it queer
To stop without a farmhouse near
Between the woods and frozen lake
The darkest evening of the year.

He gives his harness bells a shake
To ask if there is some mistake.
The only other sound's the sweep
Of easy wind and downy flake.
The woods are lovely, dark and deep,
But I have promises to keep,
And miles to go before I sleep,
And miles to go before I sleep.

A Dream Within A Dream by Edgar Allan Poe


A Dream Within A Dream 
by Edgar Allan Poe

Take this kiss upon the brow!
And, in parting from you now,
Thus much let me avow--
You are not wrong, who deem
That my days have been a dream;
Yet if hope has flown away
In a night, or in a day,
In a vision, or in none,
Is it therefore the less gone?
All that we see or seem
Is but a dream within a dream.

I stand amid the roar
Of a surf-tormented shore,
And I hold within my hand
Grains of the golden sand--
How few! yet how they creep
Through my fingers to the deep,
While I weep--while I weep!
O God! can I not grasp
Them with a tighter clasp?
O God! can I not save
One from the pitiless wave?
Is all that we see or seem
But a dream within a dream?

True Lover in Taiwan Railway Station


مجنوں، فرہاد اور مہیوال کے نام تو یقیناً آپ نے سنے ہوں گے۔ گزرے وقتوں کے یہ وہ عاشق صادق تھے جن کے جذبۂ عشق نے انھیں امر کردیا۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ مجنوں اور فرہاد جیسا جذبۂ عشق رکھنے والے عاشق آج بھی موجود ہیں۔ تائیوان سے تعلق رکھنے والا 47 سالہ آہ جی پچھلے 20برس سے ضلع تاینان کے ریلوے اسٹیشن پر مقیم ہے۔ جی نہیں، آپ غلط سمجھے! وہ محکمہ ریلوے کا ملازم نہیں ہے جسے رہائش کے لیے اسٹیشن پر کوئی کوارٹر ملا ہوا ہو۔ درحقیقت یہ دیوانہ پچھلے دو عشروں سے اپنی محبوبہ کا انتظار کررہا ہے! دو دہائی قبل آہ جی کی محبت نے اس سے ریلوے اسٹیشن پر ملاقات کے لیے آنے کا وعدہ کیا تھا، مگر یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا۔ آہ جی کی محبت نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ محبوب سے ملے بغیر واپس چلا جائے، چناں چہ وہ آج بھی ایفائے عہد کا منتظر ہے۔ اس عاشق صادق کو آج بھی یقین ہے کہ اس کی محبت ضرور اس سے ملنے آئے گی۔ اسٹیشن پر انتظار کے ابتدائی چند برسوں کے دوران آہ جی، آنے جانے والے مسافروںکو ہمیشہ داخلی سیڑھیوں کے آس پاس اور کسی کا استقبال کرنے کے لیے تیار نظر آتا تھا۔ پھر اس نے خارجی راستے کے ساتھ موجود دروازے کو اپنی ’ آرام گاہ‘ بنا لیا۔ یہاں صبح سویرے سے رات گئے تک بیٹھا باہر جانے والے مسافروں کو تکتا رہتا تھا۔ رفتہ رفتہ ریلوے اسٹیشن کا عملہ اور باقاعدگی سے ریل گاڑیوں میں سفر کرنے والے لوگ آہ جی اور اس کی داستان سے واقف ہوگئے۔ بہت سے لوگوں نے اس سے اظہاری ہمدردی کرتے ہوئے اسے اپنی محبوبہ کا انتظار ترک کرکے گھر واپس چلے جانے کا مشورہ بھی دیا۔ ترک انتظار کا مشورہ دینے والوں کو آہ جی ہمیشہ یہ جواب دیتا تھا کہ اسے اپنی محبت پر پورا اعتماد ہے اور ایک نہ ایک دن وہ ضرور اپنا وعدہ پورا کرنے آئے گی۔ آہ جی کے اہل خانہ نے بھی بہتیری کوششیں کیں کہ کسی طرح وہ دیوانگی ترک کردے، مگر یہ کوششیں بے سود رہیں۔ اپنے محبوب کے منتظر آہ جی کو کھانے پینے، اوڑھنے پہننے کی کوئی پروا نہیں۔ ان برسوں کے دوران اس کا انحصار سماجی کارکنوں اور مسافروں پر رہا جو دریادلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے کھانے پینے کی اشیاء دے دیتے تھے۔ ہر چند روز کے بعد آہ جی کے اہل خانہ بھی اس سے ملنے آتے رہے۔ وہ اس کے لیے نئے لباس اور ضرورت کی دوسری چیزیں لے کر آتے تھے۔ پھر ان کی آمد کا درمیانی وقفہ طویل ہوتا گیا، اور اب شاذ ہی اس سے کوئی رشتے دار ملنے آتا ہے۔ تین سال پہلے سماجی کارکنوں نے آہ جی کے لیے ایک قریبی رہائشی عمارت میں رہنے سہنے کا انتظام بھی کردیا تھا، مگر اس نے یہ کہتے ہوئے اسٹیشن چھوڑنے سے انکار کردیا کہ اب وہ انتظار کا عادی ہوچکا ہے۔ ایک بار لوگوں نے چالاکی سے کام لیتے ہوئے آہ جی کو اسپتال میں بھی داخل کروادیا تھا، مگر وہ چند ہی روز کے بعد فرار ہوکر دوبارہ اپنی سابقہ جگہ یعنی ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ پچھلے دنوں تاینان کے سماجی امور سے متعلق ادارے نے آہ جی کے ’ اعزاز ‘ میں عشائیے کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں اس کے اہل خانہ اور دوستوں کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ دوران تقریب آہ جی کے گھر والوں، دوست احباب کے علاوہ شہر کے ڈپٹی میئر نے بھی اسے ’ پاگل پن‘ چھوڑ کر گھر چلے جانے پر اصرار کیا، مگر آہ جی نے انھیں بھی یہی جواب دیا کہ وہ اپنے محبوب کے انتظار کا عادی ہوچکا ہے، اور اسٹیشن سے کہیں نہیں جائے گا۔

Wednesday, May 20, 2015

پُھولوں کا انبار لگایا جا سکتا ہے


پُھولوں کا انبار لگایا جا سکتا ہے
ہر مقتل کو باغ بنایا جا سکتا ہے
۔
تَوبَہ پیاس بُجھا سکتی ہے دریاؤں کی
پانی کو پانی پِلوایا جا سکتا ہے
۔
رنگ، زبان اور نسل کے سارے فرق بُھلا کر
" آخری خطبہ " دھیان میں لایا جا سکتا ہے
۔
ختم کئے جا سکتے ہیں آپس کے جھگڑے
مِل جُل کر یہ شہر بچایا جا سکتا ہے
۔
آگ لگائی جا سکتی ہے تلخ زباں کو
لہجوں میں کچھ شہد ملایا جا سکتا ہے
۔
درویشوں کو زخم دکھائے جا سکتے ہیں
وَلیوں کو بھی حال سُنایا جا سکتا ہے
۔
دِل میں گر توحید کی مَشعَل روشن ہو تو
مندِر میں بھی دیپ جلایا جا سکتا ہے
۔
فرقہ بندی والی مسجد چھوڑ کے واصفؔ
صرف خدا کے گھر میں جایا جا سکتا ہے
( جبار واصفؔ )

روز محشر حساب دینا پڑے گا


حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں میں بیت المقدس میں تھا ان دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک رات جب ہم لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو کچھ رات بیتنے کے بعد آسمان سے دو فرشتے اترے اور مسجد کی محراب کے پاس آکر ٹھہرگئے۔ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ مجھے یہاں سے کسی انسان کی خوشبو آرہی ہے‘ دوسرے نے کہاں ہاں! یہ ابراہیم بن ادھم ( رحمۃ اللہ علیہ)ہیں۔ پہلے نے پوچھا‘ ابراہیم بن ادھم (رحمۃ اللہ علیہ) بلخ کے رہنے والے ہیں؟ دوسرے نے کہا ہاں! وہی۔ پہلے نے کہا: افسوس! انہوں نے رب کی رضا حاصل کرنے کیلئے بڑی مشقتیں برداشت کیں‘ مصیبتوں اور مشکلوں کے باوجود صبر سے کام لیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مرتبہ ولایت عطا کردیا لیکن صرف ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے انہوں نے وہ مرتبہ کھودیا۔ دوسرے نے پوچھا: ان سے کیا غلطی سرزد ہوئی ہے؟ پہلے فرشتے نے کہا: جب وہ بصرہ میں تھے تو ایک بار انہوں نے ایک کھجور فروش سےکھجوریں خریدیں‘ کھجوریں لیکر جب وہ واپس پلٹنے لگے تو دیکھا کہ زمین پر کھجور کا ایک دانہ گرا پڑا تھا انہوں نے سمجھا شاید یہ ان کے ہاتھ سے گرا ہے۔ لہٰذا انہوں نے اسے اٹھایا‘ صاف کیا اور کھالیا۔ دراصل کھجور کا دانہ ان کے ہاتھ سے نہیں گرا تھا بلکہ کھجور کے ٹوکرے سے گرا تھا‘ جونہی وہ کھجور ان کے پیٹ میں پہنچی ان سے مرتبہ ولایت واپس لے لیا گیا۔حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد کے دروازے کی اوٹ سے جب ان کی یہ باتیں سنیں تو روتے ہوئے

مسجد سے باہر نکلے اور اس پریشانی اور بے چینی کے عالم میں بیت المقدس سے بصرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہاں جاکر ایک کھجور فروش سے کھجوریں خریدیں اور پھر اس کھجور فروش کے پاس گئے جس سے پہلے کھجوریں خریدی تھیں‘ اسے کھجور واپس کی اور ساتھ ہی سارا واقعہ بیان کیا اور آخر میں اس سے معافی بھی مانگی کہ غلطی سے تمہاری ایک کھجور کھالی تھی لہٰذا مجھے معاف کردینا۔اس کھجور فروش نے کھلے دل سے معاف کردیا اور پھر روپڑا کہ حضرت کو ایک کھجور کی وجہ سے اتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مختصر یہ کہ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ بصرہ سے پھر بیت المقدس روانہ ہوگئے اور بیت المقدس پہنچ کر رات کے وقت اس مسجد میں جاکر بیٹھ گئے۔ جب رات کافی بیت گئی تو آپ نے دیکھا کہ دو فرشتے آسمان سے اترے‘ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ مجھے یہاں سے انسان کی خوشبو آرہی ہے دوسرے فرشتے نے کہا ہاں یہاں ابراہیم بن ادھم موجود ہیں جو ولایت کے مرتبے سے گرگئے تھے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل و کرم کے صدقے پھر وہی مقام ومرتبہ عطا فرمادیا۔

کبھی سوچا ہے کہ ہم انجانے میں اور جان بوجھ کر لوگوں کا کتنا حق کھا جاتے ہیں اور کبھی سوچا ہی نہیں کہ روز محشر حساب دینا پڑے گا

Haqeeqat ...


Kisi Ne Darvesh Se Poocha...!!

"Duniya Mein Sab log Dukhi Kyun Hain ??
Darvesh Ne Hans K Kaha:
Khushiyan Sab K Pass Hain,
Bas Aik Ki Khushi Doosre Ka Dard Ban Jati Hain ...

Wednesday, May 13, 2015

Lyrics Khair Mangdi ( Valentine's Day Version) by Bilal Saeed


Lyrics Khair Mangdi ( Valentine's Day Version) by Bilal Saeed

Jaan Waleya Tu Tarpaya,
Aaun Da Keh K Tu Nai Aaya,
Ik Waari Tu Khat Vi Nai Paya,
Bara Sataya Tu,
Roz Banere Kaakur Laave, 
Par Teri Koi Khabar Na Aave,
Dil Mera Hun Dubda Jaave,
Bara Sataya Tu,
Tainu Hun Meri Kade Yaad aa Ke Tarpaundi Nai,
Akhiyan Chon Teri Kithe Neendar Udh Fudh Jandi Nai,
Takda Ni Rehnda Mere Wangu Tu Ay Raahwaan Nu,
Kol Na Howein Tu Je, Agg Laawaan Teri Kamaiyan Nu,
Teri Khair Mangdi, Main Mangaan Na Kuj Hor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Hor Na Koi Lor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Bas Teri Hi Thor,
Ik Teri Khair Mangdi Main ...
Ho Ik Teri Khair Mangdi, Main Mangaan Na Kuj Hor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Hor Na Koi Lor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Bas Teri Hi Thor,
Ik Teri Khair Mangdi Main ...


(Rap)
Duniya Te aa Ke ik Keeta Tainu Pyar,
Tere utton Kiti si Main Jaan vi Nisaar,
Vich Pardesaan Ja Ke Bhaije Mainu Note, 
Jehri Ditti aa Judaiyan wali dil utte Chot, 
Mainu chahidi Nai Teri ay kamai, teri bewafai,
Raas mainu naiyo aai teri ay judai,
aaja mur watna nu sun le dohayi,
tere baajun kadi meri jind Gumarayi,
loki puchde sawal, ki aa tera haal,
dass ki Main dassaan, meri ki aa majaal, 
mainu kuj vi nai pata, tu kithe kide naal,
gin gin taare hun lang ge ne saal ... 
gin gin taare hun lang ge ne saal ...

Tainu ay udeekaan wali raat kade dasse na, 
Duniya ay saari kade tere utte hasse na,
jo tu mull paya aj meri wafawaan da,
mile na way tainu sila teri khatawaan da,
Rab kare tainu koi enj yaad aawe na,
saahwaan ton vi nere ho ke door koi jaave na,
Saadeyan naseebaan vich likhiyaan judaiyan way,
Chulle Vich Paawaan o Main Teriyan Kamaiyan,
Teri Khair Mangdi, Main Mangaan Na Kuj Hor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Hor Na Koi Lor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Bas Teri Hi Thor,
Ik Teri Khair Mangdi Main ...

Ho Ik Teri Khair Mangdi, Main Mangaan Na Kuj Hor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Hor Na Koi Lor,
Ik Teri Khair Mangdi, Mainu Bas Teri Hi Thor,
Ik Teri Khair Mangdi Main ...

Thursday, April 30, 2015

YA RAB Sunaein Hum Kise Ab Madda-E-Dil,

YA RAB Sunaein Hum Kisay Ab Madda-E-Dil,

Koi Nahi Jahan Mein Hajat Rawa-E-Dil,

Kya Kahiay Behar-E-Shuq Ab Majra-E-Dil,

Dil Hai Safeena Aur Wo Hein Na'Khuda-E-Dil,

Aaina Hayat Ki Takmeel Ky Liay,

Lazim Hai Kaainat Mein Sidq-o-Safa-E-Dil,

Dil Aur Dard Dono Mein Ek Rabt Khas Hai,

Dil Aashna-E-Dard Hai,Dard Aashna-E-Dil,

Har Tais Jis Ki Teri Taraf Multafit Karay,

YA RAB.! Wo Dard Chahiye Mujh Ko Baray Dil,

Duniya-E-Dil Ka Haal Na Pucho Faraq Mein,

Masrof-E-Intizar Hein Subh-o-Masa-E-Dil,

Sadaa Uthain Dil Ki Badolat So'abtain,

Dekho Naseer Aur Abhi Kya Kya Dekha-E-Dil..

Tuesday, April 21, 2015

Mah-Jabeenon Ki Adaon Se Ulajh Betha Hun

Mah-Jabeenon Ki Adaon Se Ulajh Betha Hun.
Iska Matlab Hai Balaoon Se Ulajh Betha Hun..

Baab-E-Taseer Se Nakam Palat Aai Hain...
Is Liye Apni Duaon Se Ulajh Betha Hun...

Teri Dehleez Pe Jhuknay Ka Sawal Aaya Tha...
Main Zamanay Ki Anaoon Se Ulajh Betha Hun...

Jo Musafir K Liye Ba'is-E-Taskeen Nahi..
Aisay Ashjaar Ki Chhaoon Se Ulajh Betha Hun...

Jo Ghareebon Ka Diya Phoonk K Tham Jati Hain...
Aisi Kam'Zarf Hawaoon Se Ulajh Betha Hun..

Arsh Walay Meri Toqeer Salamat Rakhna..
Farsh K Saare Khudaoon Se Ulajh Betha Hun ...

Us Aik Shaks Ki Be-Rabt Jafa Ki Khatir...
Shehar Waloon Ki Wafaoon Se Ulajh Betha Hun .

Wo Jo Mere Pas Se Ho Kar Kisi Ki Ghar Gaya,

Wo Jo Mere Pas Se Ho Kar Kisi Ki Ghar Gaya,
Raishmi Malboos Ki Khushboo Se Jadoo Kar Gaya,

Ik Jhalak Daikhi Thi Us Roo-E-Dil Aara Ki Kabhi,
Phir Na Aankhon Se Aisa Dilruba Manzar Gaya,

Shehar Ki Galiyon Mein Gehri Teergi Giryan Rahi,
Raat Badal Is Tarah Aaye Keh Main To Dar Gaya,

Thi Watan Mein Muntzir Jis Ki Koi Chasham-E-Haseen,
Wo Musafir Jane Kis Sehra Mein Jal Kar Mar Gaya,

Subha Kazab Ki Hawa Mein Dard Tha itna MUNEER,?
Rail Ki Seeti Baji To Dil Lahoo Se Bhar Gaya..

Wednesday, November 6, 2013

Daman-E-Gul Mein Hi Gulzaar Bikhar Jaatay Hain

 
Daman-E-Gul Mein Hi Gulzaar Bikhar Jaatay Hain

Aag Bujhti Hai To Angaar Bikhar Jaatay Hain

Shama'h Jalti Hai Sada Aik Hi Lamhay Mein Lekin

Jal Ke Parwane Kayi Baar Bikhar Jaatay Hain

Jin Ko Insaa'n Pirota Hai Bohat Ulfat Se

Haaye Wo Gul Sar-E-Bazaar Bikhar Jaatay Hain

Paaoun Uthaty Hain Tere Koochay Ki Janib Jab Bhi

Apni Raho'n Mein Kayi Khaar Bikhar Jaatay Hain

Raat Ke Pichlay Pehar Khoon-E-Tamanna Ki Tarhan

Hum Teri Yaad Mein Aey Yaar Bikhar Jaatay Hain

Ho Ga AndaAz-E- Wafa Un Ka Alag Hi ''ALFAAZ"

Jin Ki Rahon Mein Talab-Gaar Bikhar Jaatay Hain ...

Monday, November 4, 2013

تھوڑی کڑوی ضرور ہے بابا : ابن انشاء

تھوڑی کڑوی ضرور ہے بابا
اپنے غم کا مگر مداوا ہے
ذائقہ کا قصور ہے بابا
تلخ و شیریں میں فاصلہ کیا ہے
رنگ و روغن کو سال و سن کو نہ دیکھ
پیڑ گننا کہ آم کھانا ہے
عمر گزری ہے خانقاہوں میں
ایک شب یاں گزار جانا ہے
حسن مختوم خوب تھا بابا
کاش حصے میں آپ کے آسکتا
عشق معصوم کیا کہا بابا
کاش میں یہ فریب کھاسکتا
حسن کا مل عیار عشق نفیس
سب مراحل سے گزر چکا ہوں میں
دل خریدا تھا کبھی ان کا
اب فقط اتنا جانتا ہوں میں
ایک رنگین خواب تھے بابا
موجہ ہائے سراب تھے بابا
ورنہ سرحد پہ تشنہ کامی کی
مئے رنگیں ہے سادہ پانی ہے
شرط حسن و وفا اضافی ہے
قید تسکین نفس کافی ہے

ابن انشاء

جب درد کا دل پر پہرا ہو : ابن انشاء

جب درد کا دل پر پہرا ہو
اور جب یاد کا گھاؤ گہرا ہو
آ جائے گا آرام
جپوست نام
جپوست نام
یہ بات تو ظاہر ہے بھائی
ہے عشق کا حاصل رسوائی
پر سوچو کیوں ا نجام
جپوست نام
جپوست نام
یہ عمر کسی پر مرنے کی
کچھ بیت گئی کچھ بیتے گی
وہ پکی ہے تم خام
جپوست نام
جپوست نام
جب عشق کا درد تم بھرتے ہو
کیوں ہجر کے شکوے کرتے ہو
یہ عشق کا ہے انعام
جپوست نام
جپوست نام
سب اول اول گھبراتے ہیں
سبا خر آخر لے آتے
اس کافر پر اسلام
جپوست نام
ٍ جپوست نام
اب چھوڑ کے بیٹھو چپکے سے
سب جھگڑے دین اور دنیا کے
آتی ہے وہ خوش اندام
جپوست نام
جپوست نام
جہاں میر سفر ،وزیر بھی ہے
اس بھیڑ میں ایک فقیر بھی ہے
اور اس کا ہے یہ کلام
جپوست نام
جپوست نام

ابن انشاء