Click Here

Friday, August 17, 2012

تم اگر یوں ہی نظریں ملاتے رہے















تم اگر یوں ہی نظریں ملاتے رہے

مے کشی میرے گھر سے کہاں جائے گی

اور یہ سلسلہ مستقل ہو تو پھر

بے خودی میرے گھر سے کہاں جائے گی

اک زمانے کے بعد آئی ہے شامِ غم

شامِ غم میرے گھر سے کہاں جائے گی

میری قسمت میں ہے جو تمہاری کمی

وہ کمی میرے گھر سے کہاں جائے گی

شمع کی اب مجھے کچھ ضرورت نہیں

نام کو بھی شبِ غم میں ظلمت نہیں

میرا ہر داغِ دل کم نہیں چاند س

چاندنی میرے گھر سے کہاں جائے گی

تو نے جو غم دیے وہ خوشی سے لیے

تجھ کو دیکھا نہیں پھر بھی سجدے کیے

اتنا مضبوط ہے جب عقیدہ میرا

بندگی میرے در سے کہاں جائے گی

ظرف والا کوئی سامنے آئے تو

میں بھی دیکھوں ذرا اس کو اپنائے تو

میری ہم راز یہ، اس کا ہم راز میں

بے کسی میرے گھر سے کہاں جائے گی

جو کوئی بھی تیری راہ میں مر گیا

اپنی ہستی کووہ جاوداں کر گیا

میں شہیدِ وفا ہو گیا ہوں تو کیا

'''... زندگی میرے گھر سے کہاں جائے گی

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم












ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ۔ ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم ۔ اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم

اے درد بتا کچھ تو ہی پتہ ۔ اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بےتاب ہیں ہم

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم

مرغان قفس کو پھولوں نے اے شاد یہ کہلا بھیجا ہے
آجاو! جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ













انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ

یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں
کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ

وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری
انہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤ

یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا مری بات مان جاؤ

کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فراز کب تک
جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو















یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے 
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو، جو سنا نہیں وہ کہا کرو

کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو

نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمئ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو

یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو
 
شاعر بشیر بدر

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے














کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے 
رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے

جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں 
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے

کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے

دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے 
کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
 
اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے












نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے
قتیل میرے سامنے چُرا لیا گیا مجھے


کبھی جو ان کے جشن میں سیاہیاں بکھر گئیں
تو روشنی کے واسطے جلا لیا گیا مجھے


براہِ راست رابطہ نہ مجھ سے تھا قبول انہیں
لکھوا کے خط رقیب سے بلا لیا گیا مجھے


جب ان کی دید کے لیے قطار میں کھڑا تھا میں
قطار سے نہ جانے کیوں ہٹا لیا گیا مجھے


میں روندنے کی چیز تھا کسی کے پاؤں سے مگر
کبھی کبھی تو زلف میں سجا لیا گیا مجھے


سوال تھا وفا ہے کیا جواب تھا کہ زندگی
قتیل پیار سے گلے لگا لیا گیا مجھے


مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی












مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی
کسی بھی طور سے وہ شخص خوش رہے تو سہی

پھر اس کے بعد بچھڑنے ہی کون دے گا اسے 
کہیں دکھائی تو دے وہ کبھی ملے ہی سہی

کہاں کا زعم ترے سامنے انا کیسی
وقار سے ہی جھکے ہم مگر جھکے تو سہی
 
جو چپ رہا تو بسا لے گا نفرتیں دل میں
برا بھلا ہی کہے وہ مگر کہے تو سہی

کوئی تو ربط ہو اپنا پرانی قدروں سے 
کسی کتاب کا نسخہ کہیں ملے تو سہی
 
دعائے خیر نہ مانگے کوئی کسی کیلیے 
کسی کو دیکھ کے لیکن کوئی جلے تو سہی
 
جو روشنی نہیں ہوتی نہ ہو بلا سے مگر
سروں سے جبر کا سورج کبھی ڈھلے تو سہی

کل پرسش احوال کی جو یار نے میرے
















کل پرسش احوال کی جو یار نے میرے 
کس رشک سے دیکھا غمخوار نے میرے
 
بس اک ترا نام چپانے کی غرض سے 
کس کس کو پکارا دل بیمار نے میرے
 
یا گرمئ بازار تھی یا خوف زبان تھا 
پھر بیچ دیا مجھ کو خریدار نے میرے
 
ویرانی میں بڑھ کر تھے بیاباں سے تو پھر کیوں 
شرمندہ کیا ہے در و دیوار نے میرے
 
جب شاعری پردہ ہے فراز اپنے جنوں کا 
پھر کیوں مجھے رسوا کیا اشعار نے میرے

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری












میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری 
اسے خبر ہی نہ تھی خاک کیمیا تھی مری 

میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی 
پھر اس کے بعد تو آواز جابجا تھی مری
 
جو طعنہ زن تھا مری پوشش دریدہ پر 
اسی کے دوش رکھی ہوئی قبا تھی مری
 
میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں 
میں اس کو بھول گیا ہوں یہی سزا تھی مری
 
شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو 
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری
 
کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن 
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری
 
کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا 
تو شہر عشق میں کیا آخری صدا تھی مری
 
جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ہے 
اسی طرح کی تو مخلوق خاک پا تھی مری
 
ہر اک شعر نہ تھا درخور قصیدہ دوست 
اور اس سے طبع رواں خوب آشنا تھی مری
 
میں اسکو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز 
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری

اِن چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو




اِن چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو 
درد کی راتوں کو ڈھلنا ہے ہوا جیسی ہو 
شوق کی آگ کو مدھم نہ کرو دیوانو 
اپنی آواز کی لَو کم نہ کرو دیوانو 
پھر سے سورج کو نکلنا ہے گھٹا جیسی ہو 
اِن چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو 
یہی مٹی تھی تمہیں جان سے بڑھ کر پیاری 
آج اسی خاک سے ایک چشمۂ خون ہے جاری 
راہ کتنی ہو کڑی رات ہو کتنی بھاری 
ہم کو اس دشت میں چلنا ہے فنا جیسی ہو 
اِن چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو 
اپنے زخموں کو سجائے ہُوئے تاروں کی طرح 
پرچمِ جاں کو لیے سینہ فگاروں کی طرح 
اِس بیاباں سے گزرنا ہے بہاروں کی طرح 
اِن چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو 
درد کی رات کو ڈھلنا ہے فضا جیسی ہو

کب یاروں کو تسلیم نہیں ، کب کوئی عدو انکاری ہے

















کب یاروں کو تسلیم نہیں ، کب کوئی عدو انکاری ہے 
اس کوئے طلب میں ہم نے بھی دل نذر کیا جاں واری ہے
 
جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے 
وہ رِیت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے
 
کچھ اہلِ ستم ، کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے 
دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے
 
جب پرچمِ جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل 
اُس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت جاری ہے
 
زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو 
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
 
کس زعم میں‌ تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں 
یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے


برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا













برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا 
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا
 
ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی 
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا
 
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے 
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا
 
خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی 
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا
 
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں 
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا
 
اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں 
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا
 
کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے 
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا
 
پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے 
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا
 
اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی 
بن جائے گا قيامت اک واقع ذرا سا
 
تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے 
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا
 
ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت 
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا
 
ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا 
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

شاعر احمد فراز

جو حرفِ حق تھا وہی جا بجا کہا سو کہا













جو حرفِ حق تھا وہی جا بجا کہا سو کہا 
بلا سے شہر میں میرا لہو بہا سو بہا
 
ہمی کو اہلِ جہاں سے تھا اختلاف سو ہے 
ہمی نے اہلِ جہاں کا ستم سہا سو سہا
 
جسے جسے نہیں چاہا اُسے اُسے چاہا 
جہاں جہاں بھی مرا دل نہیں رہا سو رہا
 
نہ دوسروں سے ندامت نہ خود سے شرمندہ 
کہ جو کیا سو کیا اور جو کہا سو کہا
 
یہ دیکھ تجھ سے وفا کی کہ بے وفائی کی 
چلو میں اور کہیں مبتلا رہا سو رہا
 
ترے نصیب اگر جا لگے کنارے سے 
وگرنہ سیلِ زمانہ میں جو بہا سو بہا
 
شکست و فتح مرا مسئلہ نہیں ہے فراز 
میں زندگی سے نبرد آزما رہا سو رہا