Click Here

Tuesday, January 8, 2013

Bhooli Hui sadaa hoon mujhe yaad kijiye

Bhooli Hui sadaa hoon mujhe yaad kijiye

Tum say kaheen milaa hoon mujhe yaad kijiye

Manzil nahi hoon, Khizr nahi, Raahzan nahi,

Manzil ka Raastaa hoon mujhe yaad kijiye

Meri Nigaah-e-shouq say har Gull hai devtaa

Main ishq kaa Khuda hoon mujhe yaad kijiye

Naghmon ki ibtedaa thi kabhi Mere naam say,

Ashkon ki intehaa hoon mujhe yaad kijiye,

Gum-sum kharri hain dono'n Jahaan ki haqeeqatein

Main un say keh rahaa hoon mujhe yaad kijiye

"Sagar" kisi k husn-e-taghaaful shaar ki

Behki hui adaa hoon mujhe yaad kijiye ...

Poet : Sagar Siddiqui
Contribute : Zahid Shah

بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے

بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا
میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے

نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے

گُم صُم کھڑی ہیں‌دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر کسی کے حُسنِ تغافل شعار کی
بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر صدیقی

Roodaad-e-Muhabbat Kya Kehiye ? Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Roodaad-e-Muhabbat Kya Kehiye ? Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Do Din Ki Musarrat Kya Kehiye, Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Jab Jaam Diya Tha Saqi Nay, Jab Daur Chala Tha Mehfil Mein,

Ik Hosh Ki Saa'at Kya Kehiye, Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Ab Waqt K Naazuk Honton Par Majrooh Tarannum Raqsaa'n Hai,

Biyaad-e-Mushiyat Kya Kehiye, Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Ehsaas K Mai-Khanay Mein Kahan Ab Fikr-o-Nazar Ki Qandeelein,

Aalaam Ki Shiddat Kya Kehiye, Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Kuch Haal K Andhay Saathi Thay, Kuch Maazi K Aiyaar Sajjan,

Ahbaad Ki Chahat Kya Kehiye, Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Kaanton Say Bhara Hai Daman-e-Dil Shabnam Say Sulagti Hain Palkein,

Phoolon Ki Sakhaawat Kya Kehiye, Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye,

Ab Apni Haqeeqat Bhi SAGAR Be-Rabt Kahani Lagti Hai,

Duniya Ki Haqeeqat Kya Kehiye, Kuch Yaad Rehi Kuch Bhool Gaye ....

Poet : Saghar Siddiqui
Contribute : Zahid Shah

رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

دو دِن کی مُسرّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں

اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے

اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے

بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں

آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن

احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں

پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے

دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

ساغر صدیقی

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں
جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں

مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جانِ جہاں!
دل کی لَو دیکھ رہا ہوں ترے رخساروں میں

مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو
میں بھی شامل ہوں محبت کے گنہ گاروں میں

حُسن بیگانۂ احساسِ جمال اچھا ہے
غنچے کھِلتے ہیں تو بِک جاتے ہیں بازاروںمیں

ذکر کرتے ہیں ترا مجھ سے بعنوانِ جفا
چارہ گر پھول پرو لائے ہیں تلواروں میں

میرے کِیسے میں تو اک سُوت کی انٹی بھی نہ تھی
نام لکھوا دیا یوسف کے خریداروں میں

رُت بدلتی ہے تو معیار بدل جاتے ہیں
بلبلیں خار لیے پھرتی ہیں منقاروں میں

چُن لے بازارِ ہنر سے کوئی بہروپ ندیمؔ
اب تو فنکار بھی شامل ہیں اداکاروں میں !

احمد ندیم قاسمی

اُس نے پھول بھیجے ھیں

اُس نے پھول بھیجے ھیں
پھر میری عیادت کو
ایک ایک پتی میں
اُن لبوں کی نرمی ھے

اُن جمیل ہاتھوں کی
خوشگوار حدّت ھے
اُن لطیف سانسوں کی
دلنواز خوشبو ھے
دل میں پُھول کھلتے ھیں
راہ میں چراغاں ھے

پھر بھی دل یہ کہتا ھے
بات کچھ بنا لیتا
وقت کے خزانے سے
کچھ پل چُرا لیتا
کاش !!
وہ خود آ جاتا ...

پروین شاکر

گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے

گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے
کس کور چشم شب میں ستارا کیا مجھے

زخمِ ہُنر کو سمجھے ہُوئے گُلِ ہنر
کس شہرِ نا سپاس میں پیدا کیا مجھے

جب حرف نا شناس یہاں لفظ فہم میں
کیوں ذوقِ شعر دے کے تماشا کیا مجھے

خوشبو ہے، چاندنی ہے،لبِ جُو ہے اور میں
کس بے پناہ رات میں تنہا کیا مجھے

دی تشنگی خدا نے تو چشمے بھی دے دیے
سینے میں دشت، آنکھوں میں دریا کیا مجھے

مَیں یوں سنبھل گئی کہ تری بے وفائی نے
بے اعتباریوں سے شناسا کیا مجھے

وہ اپنی ایک ذات میں کُل کائنات تھا
دُنیا کے ہر فریب سے مِلوا دیا مجھے

اوروں کے ساتھ میرا تعارف بھی جب ہُوا
ہاتھوں میں ہاتھ لے کر وہ سوچا کیا مجھے

بیتے دنوں کا عکس نہ آئندہ کا خیال
بس خالی خالی آنکھوں سے دیکھا کیا مجھے

پروین شاکر

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی

ہر ستمگر کو یہ ہمدرد سمجھ لیتی ہے
کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی

روز ملتے ہیں دریچے میں نئے پھول کھلے
چھوڑ جاتا ہے کوئی روز نشانی اپنی

تجھ سے بچھڑے ہیں تو پایا ہے بیاباں کا سکوت!
ورنہ دریاؤں سے ملتی تھی روانی اپنی!

قحطِ پندار کا موسم ہے سنہرے لوگو!
کچھ تیز کرو اب کے گرانی اپنی

دشمنوں سے ہی اب غمِ دل کا مداوا مانگیں
دوستوں نے تو کوئی بات نہ مانی اپنی

آج پھر چاند افق پر نہیں ابھرا محسن
آج پھر رات نہ گزرے گی سہانی اپنی ...

محسن نقوی

ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا

ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
مرنا ہی مقدر تھا ، وہ آتے تو کیا ہوتا

ایک ایک ادا سو سو، دیتی ہے جواب اسکے
کیونکر لبِ قاصد سے، پیغام ادا ہوتا

اچھی ہے وفا مجھ سے، جلتے ہیں جلیں دشمن
تم آج ہُوا سمجھو، جو روزِ جزا ہوتا

جنّت کی ہوس واعظ ، بے جا ہے کہ عاشق ہوں
ہاں سیر میں جی لگتا، گر دل نہ لگا ہوتا

اس تلخیِ حسرت پر، کیا چاشنیِ الفت
کب ہم کو فلک دیتا، گر غم میں مزا ہوتا

تھے کوسنے یا گالی، طعنوں کا جواب آخر
لب تک غمِ غیر آتا، گر دل میں بھرا ہوتا

ہے صلح عدو بے خط، تھی جنگ غلط فہمی
جیتا ہے تو آفت ہے، مرتا تو بلا ہوتا

ہونا تھا وصال اک شب، قسمت میں بلا سے گر
تُو مجھ سے خفا ہوتا، میں تجھ سے خفا ہوتا

ہے بے خودی دایم، کیا شکوہ تغافل کا
جب میں نہ ہوا اپنا، کیونکر وہ مرا ہوتا

اس بخت پہ کوشش سے، تھکنے کے سوا حاصل
گر چارۂ غم کرتا، رنج اور سوا ہوتا

اچھی مری بدنامی تھی یا تری رُسوائی
گر چھوڑ نہ دیتا، میں پامالِ جفا ہوتا

دیوانے کے ہاتھ آیا کب بندِ قبا اُس کا
ناخن جو نہ بڑھ جاتے، تو عقدہ یہ وا ہوتا

ہم بندگئ بت سے ہوتے نہ کبھی کافر
ہر جاے گر اے مومن موجود خدا ہوتا‎ ‎:::

مومن خان مومن

Wo BaateiN Teri, Wo Fasaane Tere,


Wo BaateiN Teri, Wo Fasaane Tere,
Shugufta Shugufta Bahaane Tere,

Bas Ek Daagh E Sajda Meri Kaainaat,
JabeeneiN Teri, Aastaane Tere,

Bas Ek Zakhm E Nazaara, Hissa Mera,
BahaareiN Teri, AashiyaaneiN Tere,

FaqeeroN Ki Jholi Na Ho Gi Thi,
HaiN Bhar-Poor Jab Tak KhazaaneiN Tere,

FaqeeroN Ka Jumghatt Ghari Do Ghari,
SharaabeiN Teri, Baada Khaane Tere,

Zameer Sadaf Mein Kiran Ka Muqaam,
Anokhe Anokhe Thikaane Tere,

Bahaar o KhizaaN Kam NigaahoN K Weham,
Bure Ya Bhale, Sab Zamaane Tere,

Adam Bhi Hai Tera Hikayat-Kadah,
KahaN Tak Gaye Fasaane Tere ...

Poet : Abdul Hameed Adam
Contribute : Zahid Shah

تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا

تجھی سے ابتدا ہے، تو ہی اک دن انتہا ہوگا
صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا

ہمیں‌ معلوم ہے، ہم سے سنو محشر میں‌کیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوں‌گے، وہ ہم کو دیکھتا ہوگا

سرمحشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا
درِجنت نہ وا ہوگا، درِ رحمت تو وا ہوگا

جہنم ہو کہ جنت ، جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا
یہ کیا کم ہے ہمارا اور اُن کا سامنا ہوگا

ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں
جدھر نظریں‌اُٹھاؤ گے، یہی اک سلسلہ ہوگا

یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں‌سکتی
جو محبوب خدا ہوگا، وہ محبوبِ خدا ہوگا

اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں
خوشا دردے کہ تیرا درد، در د ِ لا دوا ہوگا

نگاہِ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے
نگاہِ مہر ِ عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا

یہ مانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میں
مگر جو دل پہ گذرے گی، وہ دل ہی جانتا ہوگا

سمجھتا کیا ہے تو دیوانگاہِ عشق کو زاہد؟
یہ ہو جائیں گی جس جانب، اسی جانب خدا ہوگا

جگر کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامنِ حضرت
شکایت ہوگا، شکوہ جو بھی ہوگا، برملا ہوگا ...

جگر مراد آبادی

ہر سُو دِکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے

ہر سُو دِکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے
کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے

آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے
اب تم ملے تو کچھ نہیں اپنی خبر مجھے

ڈالا ہے بیخودی نے عجب راہ پر مجھے
آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے

کرنا ہے آج حضرتِ ناصح کا سامنا
مل جائے دو گھڑی کو تمہاری نظر مجھے

یکساں ہے حُسن و عشق کی سرمستیوں کارنگ
اُن کی خبر نہیں ہے نہ اپنی خبر مجھے

میں دُور ہوں تو روحِ سخن مجھ سے کس لیے
تم پاس ہو تو کیوں نہیں آتا نظر مجھے

دل لے کے میرا دیتے ہو داغِ جگر مجھے
یہ بات بھولنے کی نہیں عمر بھر مجھے

جگر مراد آبادی

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایاہے
سب مایا ہے
اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے
معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے
کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے راتکرو
جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے
سب مایا ہے
جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہو ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپسآیا ہے
سب مایا ہے
وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
سب مایا ہے
جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
سب مایا ہے
جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اس شہر سے دور ایک کُٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے