Click Here

Tuesday, October 1, 2013

پھر تمہارا خط آیا : ابن انشاء

پھر تمہارا خط آیا
شام حسرتوں کی شام
رات تھی جدائی کی
صبح صبح ہر کارہ
ڈاک سے ہوائی کی
نامۂ وفا لایا
پھر تمہارا خط آیا
پھر کبھی نہ آؤنگی
موجۂ صبا ہو تم
سب کو بھول جاؤنگی
سخت بے وفا ہو تم
دشمنوں نے فرمایا
دوستوں نے سمجھایا
پھر تمہارا خط آیا
ہم تو جان بیٹھے تھے
ہم تو مان بیٹھے تھے
تیری طلعتِ زیبا
تیرا دید کا وعدہ
تیری زلف کی خوشبو
دشتِ دور کے آہو
سب فریب سب مایا
پھر تمہارا خط آیا
ساتویں سمندر کے
ساحلوں سے کیوں تم نے
پھر مجھے صدا دی ہے
دعوت وفا دی ہے
تیرے عشق میں جانی
اور ہم نے کیا پایا
درد کی دوا پائی
دردِ لادوا پایا
کیوں تمہارا خط آیا

ابن انشاء

پایان فارم : ابن انشاء

ہم لوگ تو ظلمت میں جینے کے بھی عادی ہیں
اس درد نے کیوں دل میں شمعیں سی جلا دی ہیں
اک یاد پہ آہوں کا طوفاں امڈتا ہوا آتا ہے
اک ذکر پہ اب دل کو تھا ما نہیں جا تا ہے
اک نام پہ آنکھوں میں آنسو چلے آتے ہیں
جی ہم کو جلاتا ہے ہم جی کو جلاتے ہیں
ہم لوگ تو مدت سے آوارہ و حیراں تھے
اس شخص کے گیسو کب اس طور پریشاں تھے
یہ شخص مگر اے دل پردیس سدھارے گا
یہ درد ہمیں جانے کس گھاٹ اتارے گا
عشق کا چکر ہے انشا کے ستاروں کو
ہاں جا کے مبارک دو پھر نجد میں یاروں کو

ابن انشاء

پانچ جولائی پھر نہیں آئی : ابن انشاء

پانچ جولائی پھر نہیں آئی
پانچ جولائی پھر بھی آنی تھی
چھ مہینے میں جو تمام ہوئی
کس قدر مختصر کہانی تھی
میری فرہانہ اے میری فینی
پیت کچھ روز تو نبھاتی تھی
کون سی شے نہ تھی تمہارے پاس
حسن تھا، ناز تھا ، جوانی تھی
موت دی تم نے زیست کے بدلے
کیا یہی عشق کی نشانی تھی
تم تو بیگانہ ہو گئیں ہم سے
اپنی حالت ہمیں سنانی تھی
تم نے کچھ اور جی میں سوچا تھا
ہم نے کچھ اور بھی ٹھانی تھی
شام تیسیوں نومبر کی
کتنی دلکش تھی کیاسہانی تھی
تیری گفتار میں طلاطم تھا
تیری رفتار میں جوانی تھی
تیرے غمزوں نے ہم کو جیت لیا
ہم نے کب کس ہار مانی تھی
اب فقط یاد کا خرابہ ہے
ورنہ اپنی بھی زندگانی تھی
اپنے لب کیوں بچا لیے تم نے
اپنے انشا کی جاں بچانی تھی

ابن انشاء

بنجارن کا بوجھ : ابن انشاء

پہلی بار بنجارن آئی
خوشیوں کی لئے کھاری
ہونٹ عنابی باتیں شرابی
کھاری اس کی بھاری
ایک خوشی تو میں نہیں دونگی
لیتی ہو لو ساری
دو جی بار بنجارن آئی
کھاری آن اتاری
آدھی خوشیاں آدھی غم
ملی جلی تھی کھاری
خوشیاں دے جا غمیاں لے جا
نا ممکن میں واری
تیجی بار بنجارن آئی
سر پر بوجھا بھاری
جی گھایلا ور چپ چپ چہرا
کھاری نہ جائے اتاری
آگے بڑھ کر آ خر میں نے
سر پہ لے لی ساری
بھاری سی وہ کھاری

ابن انشاء

بستی بستی گھومنے والے : ابن انشاء


بستی بستی گھومنے والے پیتوں کے بنجارے
روپ نگر کی ابلا گوری آئے شہر تمہارے
کیا جانے کیا مانگیں چاہیں جنم جنم کے لو بھی
ہم سے پیت کرو گی گوری ہم سے پیت کرو گی
بال اندھیری رات کے بادل گال چٹکے گیسو
ہونٹ تمہارے نورس کلیاں نین تمہارے جادو
ان کی دھوپ اجالا من کا ان کی چھاؤں گھنیری
ہم سے پیت کرو گی گوری ہم سے پیت کرو گی

ابن انشاء

اے گمنام سپاہی : ابن انشاء

ایک گمنام سپاہی ہوں چلا جاتا ہوں
بات پوری بھی نہیں تم نے سنی یا اللہ
اے گمنام سپاہی
کس دھرتی کا بیٹا ہے تو
کس منزل کا راہی ، اے گمنام سپاہی
فوجیں گزریں ،لشکر گزرے
پیدل گزرے ،ا ڑ کے کر گزرے
چھائی شب کی سیاہی ، اے گمنام سپاہی
دیکھ چمن میں بیلا پھولا دیکھ پپیہے چہکے
کیوں گلچیں سے پینگ بڑھائے یہیں چمن میں رہ کے
تجھ پر یہ ہتیار سجائے دشمن نے کیا کہہ کے
بستی بستی موت کا پہرا
چاروں کوٹ تباہی ، اے گمنام سپاہی
دے ہر چیز گواہی

ابن انشاء

اے رودِ رائن : ابن انشاء

اے رودِ رائن
اے رودِ رائن اے رودِ رائن
ساحل بہ ساحل تیرے قرا ئن
شہر اور قصبے تیرے مدائن
صدیوں کی تاریخ باندھے ہے لائن
کہسار کہسار قلعوں کے مینار
وادی بہ وادی گرجوں کے مینار
گرما کہ سرما میلوں کی بھر مار
رقص اور نغمہ حسن طرح دار

ابن انشاء

اندھی شبو ؛ بے قرار راتو : ابن انشاء

اندھی شبو ؛ بے قرار راتو ؛
اب تو کوئی جگمگاتا جگنو
اب کوئی تمتماتا مہتاب
اب تو کوئی مہرباں ستارہ
گلیوں میں قریب شام ہر روز
لگتا ہے جو صورتوں کا میلہ
آتا ہے جو قامتوں کا ریلا
کہتی ہیں حیرتی نگاہیں
کس کس کو ہجوم میں سے چاہیں
لیکن یہ تمام لوگ کیا ہیں
ا پنے سے دور ہیں جدا ہیں
ہم نے بھی تو جی کو خاک کر کے
دامان شکیب چاک کر کے
وحشت ہی کا آسرا لیا تھا
جینے کو جنوں بنا لیا تھا
اچھا نہ کیا۔۔۔۔مگر کیا تو
اندھی شبو ، بے قرار راتو
کب تک یونہی محفلوں کے پھرے
اچھے نہیں جی کے یہ اندھیرے
اب تو کوئی بھی دید نہیں ہے
ہونے کی بھی امید نہیں ہے
ہم بھی تو عہد پاستاں ہیں
ماضی کے ہزار داستاں ہیں
پیماں کے ہزار باغ توڑے
دامان وفا پہ داغ چھوڑے
دیکھیں جو انا کے روزنوں سے
پیچھے کہیں دور دور مدھم
پراں ہیں خلا کی وسعتوں میں
اب بھی کئی ٹمٹماتے جگنو
اب بھی کئی ڈبڈباتے مہتاب
اب بھی کئی دستاں ستارے
آزردہ بحال ، طپاں ستارے
پیچھے کو نظر ہزار بھاگے
لوگو رہ زندگی ہے آگے
جتنے یہاں راز دار غم ہیں
تارے ہیں کہ چاند ہے کہ ہم ہیں
ا ن کا تو اصول ہے یہ بانکے
اس دل میں نہ اور کوئی جھانکے
خالی ہوئے جام عاشقی کے
اکھڑے ہیں خیام عاشقی کے
قصے ہیں تمام عاشقی کے

ابن انشاء

الوداع : ابن انشاء

ہونے والا ہوں جدا تیرے نواحات سے آج
اے کہ موجیں ہیں تری شاہ سمندر کا خراج
اب نہ آؤں گا کبھی سیر کو ساحل پہ ترے
الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
لاکھ ضو ریز ہوں خورشید ترے پانی پر
عکس افگن ہو اس آئینے میں سو بار قمر
پر نہ آؤں گاسیر کو ساحل پہ ترے
الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری
پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری
کوئی طوفاں متلاطم سر جودی آیا
سینٹ برنارڈ کے کتوں نے جو نہ خوشبو پائی
برف نے لا شئر آدم بہ زمیں دفنایا
سینگ بدلے ہیں زمیں گاؤ نے حیراں ہو کر
یا مہا دیو غضبناک ہوا چلا یا
بطن اٹناسے ابلتے ہوئے لاوے کا خروش
صرصر موت نے ہر چار جہت پہنچا یا
پمپیائی کے جھروکے ہوئے یکسر مسدور
آل قابیل نے دنیا کا قبالہ پایا

ابن انشاء

اس آباد خرابے میں : ابن انشاء


لو وہ چاہِ شب سے نکلا، پچھلے پہر پیلا مہتاب
ذہن نے کھولی، رُکتے رُکتے، ماضی کی پارینہ کتاب
یادوں کے بے معنی دفتر، خوابوں کے افسردہ شہاب
سب کے سب خاموش زباں سے، کہتے ہیں اے خانہ خراب
گُزری بات، صدی یا پل ہو، گُزری بات ہے نقش بر آب
یہ رُوداد ہے اپنے سفر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
شہرِ تمنّا کے مرکز میں، لگا ہُوا ہے میلا سا
کھیل کھلونوں کا ہر سو ہے، اک رنگیں گُلزار کھلا
وہ اک بالک، جس کو گھر سے ، اک درہم بھی نہیں ملا
میلے کی سج دھج میں کھو کر، باپ کی اُنگلی چھوڑ گیا
ہوش آیا تو، خُود کو تنہا پا کے بہت حیران ہوا
بھیڑ میں راہ ملی نہی گھر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
وہ بالک ہے آج بھی حیراں، میلا جیوں کا تُوں ہے لگا
حیراں ہے، بازار میں چُپ چُپ ،کیا کیا بِکتا ہے سودا
کہیں شرافت، کہیں نجات، کہیں مُحبّت، کہیں وفا
آل اولاد کہیں بِکتی ہے، کہیں بُزرگ، اور کہیں خُدا
ہم نے اس احمق کو آخر، اِسی تَذبذُب میں چھوڑا
اور نکالی، راہ مَفر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
رہ نوردِ شوق کو، راہ میں، کیسے کیسے یار مِلے
ابرِ بہاراں، عکسِ نگاراں، خالِ رُخِ دلدار مِلے
کچھ بلکل مٹّی کے مادُھو، کچھ خنجر کی دھار مِلے
کچھ منجدھار میں، کچھ ساحل پر، کچھ دریا کے پار مِلے
ہم سب سے ہر حال میں لیکن، یُونہی ہاتھ پسار مِلے
اُن کی ہر خُوبی پہ نظر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
ساری ہے بے ربط کہانی، دُھندلے دُھندلے ہیں اوراق
کہاں ہیں وہ سب، جن سے جب تھی، پل بھر کی دُوری بھی شاق
کہیں کوئ ناسُو ر نہیں، گو حائل ہے، برسوں کا فراق
کِرم فراموشی نے دیکھو، چاٹ لۓ کتنے میثاق
وہ بھی ہم کو رو بیٹھے ہیں، چلو ہُوا قِصّہ بے باق
کُھلی، تو آخر بات اثر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
خوار ہُوۓ دمڑی کے پیچھے، اور کبھی جھولی بھر مال
ایسے چھوڑ کے اُٹّھے، جیسے چھُوا، تو کر دے کا کنگال
سیانے بن کر بات بِگاڑی، ٹھیک پڑی سادہ سی چال
چھانا دشتِ محبّت کتنا، آبلہ پا، مجنوں کی مثال
کبھی سکندر، کبھی قلندر، کبھی بگُولا، کبھی خیال
سوانگ رچاۓ، اور گُزر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
زیست، خُدا جانے ہے کیا شے، بُھوک، تجسّس، اشک، فرار
پھوُل سے بچّے، زُہرہ جبینیں، مرد، مجسّم باغ و بہار
مُرجھا جاتے ہیں کیوں اکثر، کون ہے وہ جس نے بیمار
:کیا ہے رُوحِ ارض کو آخر، اور یہ زہریلے افکار
کس مٹّی سے اُگتے ہیں سب، جینا کیوں ہے اک بیگار
ان باتوں سے قطع نظر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
دُور کہیں وہ کوئل کُوکی، رات کے سنّاٹے میں، دُور
کچّی زمیں پر بِکھرا ہوگا، مہکا مہکا آم کا بُور
بارِ مُشقّت کم کرنے کو، کھلیانوں میں کام سے چُور
کم سِن لڑکے گاتے ہوں گے، لو دیکھو وہ صبح کا نُور
چاہِ شب سے پھُوٹ کے نکلا، میں مغموم، کبھی مسُرور
سوچ رہا ہوں، اِدھر اُدھر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

ابن انشاء

ابیات : ابن انشاء


در سے تو ان کے ا ٹھ ہی چکا ہے کہہ دو جی سے بھلانے کو
لے گئے ہاتھوں ہاتھ ا ٹھا کر لوگ کہیں دیوانے کو

اے دل وحشی دشت میں ہم کو کیا کیا عیش میسر ہیں
کانٹے بھی چب جانے کو ہیں تلوے بھی سہلانے کو

ان سے یہ پوچھو کل کیوں ہم کو دشت کی راہ دکھائی تھی
شہر کا شہر امڈ آیا آج یہی سمجھانے کو

ابن انشاء

آتی ہے پون جاتی ہے پون : ابن انشاء

جوگی کا بنا کر بھیس پھرے
برہن ہے کوئی ، جو دیس پھرے
سینے میں لیے سینے کی دُکھن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہا
کچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑا
پر اس کا چلن وحشی کا چلن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاں
آوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاں
لوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہے
وہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہے
پربت کہ نگر، صحرا کہ چمن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
رکنے کی نہیں جا، اٹھ بھی چکو
انشاء جی چلو، ہاں تم بھی چلو
اور ساتھ چلے دُکھتا ہُوا مَن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

ابن انشاء

ایک آسیب زدہ شام : ابن انشاء

 

کل شام کی پیلی روشنی جب ڈوب رہی تھی
گھر پہنچا میں سوچ میں ڈوبا ، گھبرا یا
دور کہیں بنسری کی تانا ڑا کے
ایک پرانے دوست نے جنگل میں بلایا
ویرانی ہے تنہائی ہے خاموشی ہے
ٹھیر ذرا اے دوست میں آیا ابھی آیا
دور کہیں اک بنسری کی تان البیلی
گونج رہی تھی اور میں دبکا دبکا یا
آنگن کی ویرا ن فضا میں گھوم رہا تھا
ایک ایک کمرے میں جھانکا ، دیا جلایا
کھڑکی کے پٹ کھول کے تاروں کو دیکھا
بھیگی بھیگی نرم ہوا کا جھونکا آیا
کون ہوا کس دیس کا یہ چھیل چھبیلا
پیت کے ہاتھوں باؤلا قسمت کاستا یا
روپ نگر کی شہزادی کی کھوج میں حیراں
وقت کی تپتی دھوپ میں جھلساسنو لایا
دیس دیس کے راکشوں سے لڑتا بھڑتا
آج ہمارے شہر کی جانب نکل آیا
کس ظالم نے شام کے اس شانت سمے میں
مہجوری کے درد کو ، سوتے سے جگا یا
گونج رہی ہے بنسری کی تان البیلی
درد برہ کا ہو گیا کچھ اور رسوایا
کھڑکی کے پٹ بھیڑ دوں اور دیا جلالوں
چاروں کوٹوں پھیل چکی ہے رات کی چھایا
دور دیس کے باولے اوچھیل چھبیلے
ہم نے کیا اس پیت میں کھویا ،کیا پا یا
صحراؤں میں راہ راہ کی مٹی چھانی
دریاؤں کا موڑ مو ڑ پر ساتھ نبھایا
بادل بن کر انبر انبر گھومے لیکن
کب پہنچا ہے چاند تک دھرتی کا جایا
روپ نگر کی شہزادی کی کھوج میں حیراں
دیکھ چکے جو پیت ہم کو دکھلایا
راج کیا کبھی دوار دوار پر بھکشا مانگی
تحفے میں کبھی پھول ملے کبی پاتھر کھایا
لیکن اب تو بھیگے دامن سوکھ چکے ہیں
ٹھہر ذرا اے دوست میں آیا ابھی آیا
روندے رہے ہیں اوس کو دھلتے دھلتے پاؤں
ہر پتی نے دیکھ کے ہم کو سیس نوایا
وادی گھیری گاؤں کے چولھوں کے دھوئیں نے
دور دور سے سرمئی بادل گھر آیا
پچھم میں سونے کی نوکا ڈوب چلی ہے
کانٹے تو نے چبھ کر ناحق پاپ کمایا
سونک رہا ہے بوڑھا پیپل سائیں سائیں
دیکھو چوتھی رات کا چندا ابھر آیا
لیکن اب وہ بنسری کی تان کہاں ہے
تو نے پھر کیوں رانجھڑے یاں ہمیں بلایا
دھندلے سائے دھندلی راہیں میٹ رہی ہیں
میں تو بستر چھوڑ کے آ کے پچھتا یا
شاخ شاخ پر شور مچاتے پنچھی دبکے
دیکھو دیکھو جھیل میں کیسا طوفاں آیا
چٹے چٹے سارس بیٹھے ایک کنارے
ڈھونڈ رہے ہیں چندا کی لہراتی چھایا
بنسی کی آواز فضا میں ڈوب رہی ہے
کوئی چھلاوا تھا کہ ہمیں نے دھوکا کھایا
نیلا انبر پیلے چاند کا جھومر باندھے
دیکھو اب اس پیڑ کے اوپر اتر آیا
پھندے ڈالے گاؤں کے چولھوں کے دھوئں نے
دور کہیں اک جانور ، بن کر ڈکرایا
کوئی بگولا کفنی ڈالے ناچ رہا ہے
کوئی ستارہ ٹوٹ کر وہ گرا ۔۔ خدایا
بیتی گھڑیاں بھولی یادیں ، مٹتے سپنے
سب بیری ہیں سب نے مل کر جال بچھایا
اوس گری تو بنسی کے شعلے مرجھائے
چار کوٹ سے اندھیارے کا طوفاں آیا
روح میں گھس کر بیٹھ گئے مٹیالے سائے
دیکھا اپنی سوچ نے کیا کیاسونگ رچایا
بنسی کی آواز فضا میں گونج رہی ہے
گھر پہنچا ہوں سوچ میں ڈوبا گھبرایا
دوس دیس کے باؤلے او چھل چھبیلے
تجھ پر بھی کیا کسی آسیب کاسایا
کھڑکی کے پٹ بھیڑ لوں اور دیا بجھا دوں
ٹھہر ذرا اے دوست میں آیا ابھی آیا

ابن انشاء