Click Here

Monday, November 4, 2013

وہ جس کا نام لے لیا پہیلیوں کی اوٹ میں



وہ جس کا نام لے لیا پہیلیوں کی اوٹ میں
نظر پڑی تو چھپ گئی سہیلیوں کی اوٹ میں

رکے گی شرم سے کہاں یہ خال و خد کی روشنی
چھپے گا آفتاب کیا ہتھیلیوں کی اوٹ میں

ترے مرے ملاپ پر وہ دشمنوں کی سازشیں
وہ سانپ رینگتے ہوئے چمبیلیوں کی اوٹ میں

وہ تیرے اشتیاق کی ہزار حیلہ سازیاں
وہ میرا اضطراب یار بیلیوں کی اوٹ میں

چلو کہ ہم بجھے بجھے سے گھر کا مرثیہ کہیں
وہ چاند تو اتر گیا حویلیوں کی اوٹ میں --

No comments:

Post a Comment